موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِحْصَانِ
احصان کا بیان
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ: " الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ هُنَّ أُولَاتُ الْأَزْوَاجِ، وَيَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الزِّنَا"
سعید بن مسیّب نے کہا کہ «محصنات» سے وہ عورتیں مراد ہیں جو خاوند والیاں ہیں، مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ نے زنا کو حرام کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13995 والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4166، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 39»
حدیث نمبر: 1114
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَبَلَغَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ: " إِذَا نَكَحَ الْحُرُّ الْأَمَةَ فَمَسَّهَا، فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ" .
ابن شہاب اور قاسم بن محمد کہتے تھے: اگر آزاد شخص نے لونڈی سے نکاح کیا اور اس سے جماع کیا تو وہ محصن ہو گیا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1114]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1114]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 40»
حدیث نمبر: 1114B1
قَالَ مَالِك: وَكُلُّ مَنْ أَدْرَكْتُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ، تُحْصِنُ الْأَمَةُ الْحُرَّ إِذَا نَكَحَهَا فَمَسَّهَا فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے جن لوگوں کو پایا یہی کہتے پایا کہ لونڈی سے آزاد شخص جب نکاح کرے پھر اس سے جماع کرے تو وہ شخص محصن ہو جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1114B1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1114B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 40»
حدیث نمبر: 1114B2
قَالَ مَالِك: يُحْصِنُ الْعَبْدُ الْحُرَّةَ إِذَا مَسَّهَا بِنِكَاحٍ، وَلَا تُحْصِنُ الْحُرَّةُ الْعَبْدَ إِلَّا أَنْ يَعْتِقَ، وَهُوَ زَوْجُهَا، فَيَمَسَّهَا بَعْدَ عِتْقِهِ، فَإِنْ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَعْتِقَ، فَلَيْسَ بِمُحْصَنٍ حَتَّى يَتَزَوَّجَ بَعْدَ عِتْقِهِ، وَيَمَسَّ امْرَأَتَهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: غلام اگر آزاد عورت سے نکاح کر کے صحبت کرے تو وہ محصن نہ ہوگا مگر عورت محصن ہو جائے گی، البتہ اگر غلام آزاد ہو جائے اور بعد آزادی کے اس سے جماع کرے تو غلام محصن ہو جائے گا، اور جو قبل آزادی کے وہ غلام اس عورت کو چھوڑ دے تو محصن نہ ہوگا کہ جب تک بعد آزادی کے پھر نکاح کر کے جماع نہ کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1114B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 40»
حدیث نمبر: 1114B3
قَالَ مَالِك: وَالْأَمَةُ إِذَا كَانَتْ تَحْتَ الْحُرِّ ثُمَّ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ تَعْتِقَ، فَإِنَّهُ لَا يُحْصِنُهَا نِكَاحُهُ إِيَّاهَا، وَهِيَ أَمَةٌ حَتَّى تُنْكَحَ بَعْدَ عِتْقِهَا، وَيُصِيبَهَا زَوْجُهَا، فَذَلِكَ إِحْصَانُهَا، وَالْأَمَةُ إِذَا كَانَتْ تَحْتَ الْحُرِّ فَتَعْتِقُ وَهِيَ تَحْتَهُ، قَبْلَ أَنْ يُفَارِقَهَا، فَإِنَّهُ يُحْصِنُهَا إِذَا عَتَقَتْ وَهِيَ عِنْدَهُ، إِذَا هُوَ أَصَابَهَا بَعْدَ أَنْ تَعْتِقَ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: لونڈی اگر آزاد شخص کے نکاح میں ہو، پھر خاوند اس کو چھوڑ دے قبل آزادی کے، تو وہ محصنہ نہ ہوگی جب تک بعد آزادی کے نکاح نہ کرے اور صحبت نہ کرائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1114B3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 40»
حدیث نمبر: 1114B4
وَقَالَ مَالِك: وَالْحُرَّةُ النَّصْرَانِيَّةُ وَالْيَهُودِيَّةُ، وَالْأَمَةُ الْمُسْلِمَةُ، يُحْصِنَّ الْحُرَّ الْمُسْلِمَ إِذَا نَكَحَ إِحْدَاهُنَّ فَأَصَابَهَا
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: لونڈی اگر آزاد شخص کے نکاح میں ہو اور آزاد ہو جائے اسی کے نکاح میں تو وہ محصنہ ہو جائے گی، بشرطیکہ خاوند اس کا بعد آزادی کے اس سے جماع کرے۔ کہا مالک رحمہ اللہ نے: اگر آزاد عورت سے نصرانی یا یہودی یا مسلمان مرد نکاح کر کے صحبت کرے تو محصن ہو جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1114B4]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 40»