موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَالِ الْمَمْلُوكِ إِذَا بِيعِ
جب غلام یا لونڈی بکے تو اس کا مال کس کو ملے
حدیث نمبر: 1304
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ: " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص غلام کو بیچے اور اسکے پاس مال ہو تو وہ مال بائع کو ملے گا۔ مگر جب خریدار شرط کر لے کہ وہ مال میں لوں گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1304]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2379، و أبو داود فى «سننه» برقم: 3434، 3433، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1244، والنسائی فى «الكبريٰ» برقم: 4978، 4989، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 2»
حدیث نمبر: 1304B1
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا: أَنَّ الْمُبْتَاعَ إِنِ اشْتَرَطَ مَالَ الْعَبْدِ، فَهُوَ لَهُ، نَقْدًا كَانَ أَوْ دَيْنًا، أَوْ عَرْضًا يُعْلَمُ أَوْ لَا يُعْلَمُ، وَإِنْ كَانَ لِلْعَبْدِ مِنَ الْمَالِ أَكْثَرُ مِمَّا اشْتَرَى بِهِ، كَانَ ثَمَنُهُ نَقْدًا أَوْ دَيْنًا أَوْ عَرْضًا، وَذَلِكَ أَنَّ مَالَ الْعَبْدِ لَيْسَ عَلَى سَيِّدِهِ فِيهِ زَكَاةٌ. وَإِنْ كَانَتْ لِلْعَبْدِ جَارِيَةٌ اسْتَحَلَّ فَرْجَهَا بِمِلْكِهِ إِيَّاهَا، وَإِنْ عَتَقَ الْعَبْدُ، أَوْ كَاتَبَ تَبِعَهُ مَالُهُ، وَإِنْ أَفْلَسَ أَخَذَ الْغُرَمَاءُ مَالَهُ، وَلَمْ يُتَّبَعْ سَيِّدُهُ بِشَيْءٍ مِنْ دَيْنِهِ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک اس پر اجماع ہے کہ خریدار اگر شرط کر لے گا اس مال کے لینے کی تو وہ مال اسی کو ملے گا، نقد ہو یا کسی پر قرض ہو یا اسباب ہو، معلوم ہو یا نہ معلوم ہو، اگرچہ وہ مال اس زرِ ثمن سے زیادہ ہو جس کے عوض میں وہ غلام بکا ہے، کیونکہ غلام کے مال میں مولیٰ پر زکوٰة نہیں ہے، وہ غلام ہی کا سمجھا جائے گا، اور اس غلام کی اگر کوئی لونڈی ہوگی تو مولیٰ کو اس سے وطی کرنا درست ہو جائے گا، اور اگر یہ غلام آزاد ہو جاتا یا مکاتب، تو اس کا مال اسی کو ملتا، اگر مفلس ہو جاتا تو قرض خواہوں کو مل جاتا، اس کے مولیٰ سے مؤاخذہ نہ ہوتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1304B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 2»