🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ مَا تَقَعُ فِيهِ الشُّفْعَةُ
جس چیز میں شفعہ ثابت ہو اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1410B8
قَالَ مَالِكٌ: فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْأَرْضَ فَيَعْمُرُهَا بِالْأَصْلِ يَضَعُهُ فِيهَا، أَوِ الْبِئْرِ يَحْفِرُهَا، ثُمَّ يَأْتِي رَجُلٌ فَيُدْرِكُ فِيهَا حَقًّا، فَيُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَهَا بِالشُّفْعَةِ، إِنَّهُ لَا شُفْعَةَ لَهُ فِيهَا، إِلَّا أَنْ يُعْطِيَهُ قِيمَةَ مَا عَمَرَ، فَإِنْ أَعْطَاهُ قِيمَةَ مَا عَمَرَ كَانَ أَحَقَّ بِالشُّفْعَةِ، وَإِلَّا فَلَا حَقَّ لَهُ فِيهَا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے مشترک گھر یا زمین میں سے اپنا حصّہ بیچا، جب بائع کو معلوم ہوا کہ شفیع اپنا شفعہ لے گا، تو اس نے بیع کو فسخ کر ڈالا، اس صورت میں شفیع کا شفعہ ساقط نہ ہوگا، بلکہ اس قدر دام دے کر جتنے کو وہ حصّہ بکا تھا اس حصّے کو لے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الشُّفْعَةِ/حدیث: 1410B8]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 35 - كِتَابُ الشُّفْعَةِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1410B9
قَالَ مَالِكٌ: مَنْ بَاعَ حِصَّتَهُ مِنْ أَرْضٍ أَوْ دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ، فَلَمَّا عَلِمَ أَنَّ صَاحِبَ الشُّفْعَةِ يَأْخُذُ بِالشُّفْعَةِ، اسْتَقَالَ الْمُشْتَرِيَ، فَأَقَالَهُ. قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ. وَالشَّفِيعُ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ الَّذِي كَانَ بَاعَهَا بِهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص نے ایک حصّہ مشترک گھر یا زمین کا اور ایک جانور اور کچھ اسباب ایک ہی عقد میں خرید کیا، پھر شفیع نے اپنا حصّہ یا شفعہ اس زمین یا گھر میں مانگا، مشتری کہنے لگا: جتنی چیزیں میں نے خریدی ہیں تو ان سب کو لے لے، کیونکہ میں نے ان سب کو ایک عقد میں خریدا ہے، تو شفیع زمین یا گھر میں اپنا شفعہ لے گا اس طرح پر کہ ان سب چیزوں کی علیحدہ علیحدہ قیمت لگائیں گے، اور پھر ثمن کو ہر ایک قیمت پر حصّہ رسد تقسیم کریں گے، جو حصّہ ثمن کا زمین یا مکان کی قیمت پر آئے اس قدر شفیع کو دے کر وہ حصّہ زمین یا مکان کا لے لے گا، اور یہ ضروری نہیں کہ اس جانور اور اسباب کو بھی لے لے، البتہ اگر اپنی خوشی سے لے تو مضائقہ نہیں۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الشُّفْعَةِ/حدیث: 1410B9]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 35 - كِتَابُ الشُّفْعَةِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1410B10
قَالَ مَالِكٌ: مَنِ اشْتَرَى شِقْصًا فِي دَارٍ أَوْ أَرْضٍ. وَحَيَوَانًا وَعُرُوضًا فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ. فَطَلَبَ الشَّفِيعُ شُفْعَتَهُ فِي الدَّارِ أَوِ الْأَرْضِ، فَقَالَ الْمُشْتَرِي: خُذْ مَا اشْتَرَيْتُ جَمِيعًا. فَإِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُهُ جَمِيعًا. قَالَ مَالِكٌ: بَلْ يَأْخُذُ الشَّفِيعُ شُفْعَتَهُ فِي الدَّارِ أَوِ الْأَرْضِ. بِحِصَّتِهَا مِنْ ذَلِكَ الثَّمَنِ يُقَامُ كُلُّ شَيْءٍ اشْتَرَاهُ مِنْ ذَلِكَ عَلَى حِدَتِهِ. عَلَى الثَّمَنِ الَّذِي اشْتَرَاهُ بِهِ. ثُمَّ يَأْخُذُ الشَّفِيعُ شُفْعَتَهُ بِالَّذِي يُصِيبُهَا مِنَ الْقِيمَةِ مِنْ رَأْسِ الثَّمَنِ. وَلَا يَأْخُذُ مِنَ الْحَيَوَانِ وَالْعُرُوضِ شَيْئًا. إِلَّا أَنْ يَشَاءَ ذَلِكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے مشترک زمین میں سے ایک حصّہ خرید کیا، اور سب شفیعوں نے شفعے کا دعویٰ چھوڑ دیا، مگر ایک شفیع نے شفعہ طلب کیا، تو اس شفیع کو چاہیے کہ پورا حصّہ مشتری کا لے لے، یہ نہیں ہوسکتا کہ اپنے حصّے کے موافق اس میں سے لے لے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الشُّفْعَةِ/حدیث: 1410B10]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 35 - كِتَابُ الشُّفْعَةِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1410B11
قَالَ مَالِكٌ: وَمَنْ بَاعَ شِقْصًا مِنْ أَرْضٍ مُشْتَرَكَةٍ، فَسَلَّمَ بَعْضُ مَنْ لَهُ فِيهَا الشُّفْعَةُ لِلْبَائِعِ. وَأَبَى بَعْضُهُمْ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ بِشُفْعَتِهِ: إِنَّ مَنْ أَبَى أَنْ يُسَلِّمَ يَأْخُذُ بِالشُّفْعَةِ كُلِّهَا. وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَدْرِ حَقِّهِ وَيَتْرُكَ مَا بَقِيَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک گھر میں چند آدمی شریک ہوں، اور ایک آدمی ان میں سے اپنا حصّہ بیچے سب شرکاء کی غیبت میں، مگر ایک شریک کی موجودگی میں، اب جو شریک موجود ہے اس سے کہا جائے: تو شفعہ لیتا ہے یا نہیں لیتا؟ وہ کہے: بالفعل میں اپنے حصّے کے موافق لے لیتا ہوں، بعد اس کے جب میرے شریک آئیں گے وہ اپنے حصّوں کو خرید کریں گے تو بہتر، نہیں تو میں کل شفعہ لے لوں گا۔ تو یہ نہیں ہو سکتا، بلکہ جو شریک موجود ہے اس سے صاف کہہ دیا جائے گا: یا تو شفعہ کل لے لے یا چھوڑ دے، اگر وہ لے لے گا تو بہتر، نہیں تو اس کا شفعہ ساقط ہو جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الشُّفْعَةِ/حدیث: 1410B11]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 35 - كِتَابُ الشُّفْعَةِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1410B12
قَالَ مَالِكٌ: فِي نَفَرٍ شُرَكَاءَ فِي دَارٍ وَاحِدَةٍ، فَبَاعَ أَحَدُهُمْ حِصَّتَهُ، وَشُرَكَاؤُهُ غُيَّبٌ كُلُّهُمْ إِلَّا رَجُلًا، فَعُرِضَ عَلَى الْحَاضِرِ أَنْ يَأْخُذَ بِالشُّفْعَةِ أَوْ يَتْرُكَ، فَقَالَ: أَنَا آخُذُ بِحِصَّتِي وَأَتْرُكُ حِصَصَ شُرَكَائِي حَتَّى يَقْدَمُوا، فَإِنْ أَخَذُوا فَذَلِكَ، وَإِنْ تَرَكُوا أَخَذْتُ جَمِيعَ الشُّفْعَةِ. قَالَ مَالِكٌ: لَيْسَ لَهُ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ ذَلِكَ كُلَّهُ أَوْ يَتْرُكَ، فَإِنْ جَاءَ شُرَكَاؤُهُ، أَخَذُوا مِنْهُ أَوْ تَرَكُوا إِنْ شَاءُوا، فَإِذَا عُرِضَ هَذَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَقْبَلْهُ، فَلَا أَرَى لَهُ شُفْعَةً.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 35 - كِتَابُ الشُّفْعَةِ-ح: 3»

تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 35 - كِتَابُ الشُّفْعَةِ-ح: 3»