🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ الْقَضَاءِ فِي قَسْمِ الْأَمْوَالِ
تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1449
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ قُسِمَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَهِيَ عَلَى قَسْمِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ أَدْرَكَهَا الْإِسْلَامُ وَلَمْ تُقْسَمْ، فَهِيَ عَلَى قَسْمِ الْإِسْلَامِ" .
حضرت ثور بن زید دیلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زمین یا مکان جاہلیت کے زمانے میں تقسیم ہو چکا ہے وہ اسی طور پر رہے گا، البتہ جو مکان یا زمین اسلام کے زمانے تک تقسیم نہیں ہوئی تو وہ اسلام کے قاعدوں کے موافق تقسیم ہوگی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1449]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 2914، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2485، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18285، وأبو يعلي فى «مسنده» برقم: 2359، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 35»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1449B1
قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ، فِيمَنْ هَلَكَ وَتَرَكَ أَمْوَالًا بِالْعَالِيَةِ وَالسَّافِلَةِ: إِنَّ الْبَعْلَ لَا يُقْسَمُ مَعَ النَّضْحِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَهْلُهُ بِذَلِكَ، وَإِنَّ الْبَعْلَ يُقْسَمُ مَعَ الْعَيْنِ إِذَا كَانَ يُشْبِهُهَا، وَأَنَّ الْأَمْوَالَ إِذَا كَانَتْ بِأَرْضٍ وَاحِدَةٍ الَّذِي بَيْنَهُمَا مُتَقَارِبٌ، أَنَّهُ يُقَامُ كُلُّ مَالٍ مِنْهَا، ثُمَّ يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ وَالْمَسَاكِنُ وَالدُّورُ بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص مر جائے اور بارانی اور چاہی زمینیں چھوڑ جائے، تو بارانی کو چاہی کے ساتھ ملا کر تقسیم نہ کریں گے، بلکہ جدا جدا تقسیم کریں گے، (کیونکہ بارانی کا لگان دسواں حصّہ اور چاہی کا بیسواں حصّہ پیداوار کا)، مگر جب سب شریک ملا کر تقسیم کرنے پر راضی ہوجائیں تو ملا کر تقسیم کردیں گے، البتہ بارانی اور زیر تالاب یا کاریز کو ملا کر تقسیم کردیں گے، (کیونکہ ان کا دھارا ایک ہے، یعنی دونوں قسموں کی زمینوں کا لگان پیداوار کا دسواں حصّہ ہے)، اسی طرح اگر کسی قسم کا مال ہوں ایک ہی جگہ اور ایک دوسرے کے مشابہ ہوں، تو ہر ایک مال کی قیمت لگا کر ایک ساتھ تقسیم کردیں گے، مکانوں اور گھروں کا بھی یہی حکم ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1449B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 36»