🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. بَابُ الْقَضَاءِ فِيمَنِ ابْتَاعَ ثَوْبًا وَبِهِ عَيْبٌ
جو شخص کپڑا خرید کرے اور اس میں عیب نکلے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1452Q7
قَالَ مَالِكٌ: إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلُ ثَوْبًا وَبِهِ عَيْبٌ مِنْ حَرْقٍ أَوْ غَيْرِهِ قَدْ عَلِمَهُ الْبَائِعُ. فَشُهِدَ عَلَيْهِ بِذَلِكَ. أَوْ أَقَرَّ بِهِ. فَأَحْدَثَ فِيهِ الَّذِي ابْتَاعَهُ حَدَثًا مِنْ تَقْطِيعٍ يُنَقِّصُ ثَمَنَ الثَّوْبِ. ثُمَّ عَلِمَ الْمُبْتَاعُ بِالْعَيْبِ. فَهُوَ رَدٌّ عَلَى الْبَائِعِ. وَلَيْسَ عَلَى الَّذِي ابْتَاعَهُ غُرْمٌ فِي تَقْطِيعِهِ إِيَّاهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کپڑا خریدے اور اس میں عیب نکلے، مثلاً پھٹا ہوا ہو یا اور کچھ عیب بائع کے پاس کا ہو، گواہوں کی گواہی سے، یا بائع کے اقرار سے، اب مشتری نے اس کپڑے میں تصرف کیا، جیسے اس کو کتر بیونت کر ڈالا، جس سے کپڑے کی قیمت گھٹ گئی، پھر اس کو عیب معلوم ہوا تو وہ کپڑا بائع کو پھیر دے، اور کاٹنے کا ضمان مشتری پر نہ ہوگا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1452Q7]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 39ق2»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1452Q8
قَالَ مَالِكٌ: وَإِنِ ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَوْبًا وَبِهِ عَيْبٌ مِنْ حَرْقٍ أَوْ عَوَارٍ، فَزَعَمَ الَّذِي بَاعَهُ أَنَّهُ لَمْ يَعْلَمْ بِذَلِكَ. وَقَدْ قَطَعَ الثَّوْبَ الَّذِي ابْتَاعَهُ. أَوْ صَبَغَهُ. فَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُوضَعَ عَنْهُ قَدْرُ مَا نَقَصَ الْحَرْقُ أَوِ الْعَوَارُ مِنْ ثَمَنِ الثَّوْبِ، وَيُمْسِكُ الثَّوْبَ، فَعَلَ. وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَغْرَمَ مَا نَقَصَ التَّقْطِيعُ أَوِ الصِّبْغُ مِنْ ثَمَنِ الثَّوْبِ، وَيَرُدُّهُ، فَعَلَ. وَهُوَ فِي ذَلِكَ بِالْخِيَارِ. فَإِنْ كَانَ الْمُبْتَاعُ قَدْ صَبَغَ الثَّوْبَ صِبْغًا يَزِيدُ فِي ثَمَنِهِ، فَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ. إِنْ شَاءَ أَنْ يُوضَعَ عَنْهُ قَدْرُ مَا نَقَصَ الْعَيْبُ مِنْ ثَمَنِ الثَّوْبِ. وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَكُونَ شَرِيكًا لِلَّذِي بَاعَهُ الثَّوْبَ، فَعَلَ. وَيُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُ الثَّوْبِ وَفِيهِ الْحَرْقُ أَوِ الْعَوَارُ. فَإِنْ كَانَ ثَمَنُهُ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، وَثَمَنُ مَا زَادَ فِيهِ الصِّبْغُ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ، كَانَا شَرِيكَيْنِ فِي الثَّوْبِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِقَدْرِ حِصَّتِهِ. فَعَلَى حِسَابِ هَذَا يَكُونُ مَا زَادَ الصِّبْغُ فِي ثَمَنِ الثَّوْبِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے کپڑا خریدا اور اس میں عیب پایا، مثلاً پھٹا ہو یا چرا ہوا ہے، بائع نے کہا: مجھے اس عیب کی خبر نہ تھی، اور مشتری اس کپڑے کو کاٹ بیونت کر چکا ہے، یا رنگ چکا ہے، تو مشتری کو اختیار ہے چاہے کپڑا رکھ لے اور بائع سے عیب کے موافق نقصان مجرا لے، چاہے کپڑا پھیر دے اور جس قدر کاٹ بیونت یا رنگ سے کپڑے کی قیمت گھٹ گئی ہے اس قدر بائع کو مجرا دے، اگر مشتری نے اس پر وہ رنگ کیا ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت بڑھ گئی، تب بھی مشتری کو اختیار ہوگا چاہے عیب کا نقصان بائع سے وصول کر کے کپڑا رکھ لے، چاہے بائع کا شریک ہوجائے اس کپڑے میں۔ اب دیکھا جائے گا کہ اس کپڑے کی قیمت عیب کے لحاظ سے کتنی ہے، مثلاً دس درہم ہو اور مشتری کے رنگنے کی وجہ سے پندرہ درہم قیمت ہوگئی ہو تو بائع دو تہائی کا اور مشتری ایک تھائی کا اس کپڑے میں شریک ہوگا، جب وہ کپڑا بکے اس کی قیمت کو اسی حساب سے بانٹ لیں گے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1452Q8]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 39ق3»