🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ مَا يُكْرَهُ لِلنِّسَاءِ لُبْسُهُ مِنَ الثِّيَابِ
جو کپڑا عورتوں کو پہننا مکروہ ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1651
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى حَفْصَةَ خِمَارٌ رَقِيقٌ " فَشَقَّتْهُ عَائِشَةُ، وَكَسَتْهَا خِمَارًا كَثِيفًا"
مرجانہ سے روایت ہے کہ حفصہ بنت عبدالرحمٰن بن ابی بکر اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں ایک باریک سر بند (اوڑھنی) اوڑھ کر۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو پھار ڈالا اور موٹے کپڑے کا سر بند (دوپٹہ) اوڑھا دیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث: «موقوف حسن، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3265، فواد عبدالباقي نمبر: 48 - كِتَابُ اللِّبَاسِ-ح: 6»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1652
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ، مَائِلَاتٌ مُمِيلَاتٌ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو عورتیں کپڑا پہنے ہوئے ہیں لیکن ننگی ہیں، خود بھی سیدھی راہ سے ہٹی ہوئی ہیں اور خاوند کو بھی ہٹا دیتی ہیں، جنت میں نہ جائیں گی، بلکہ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی راہ سے آتی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1652]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2128، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7461، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3311، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8786، 9811، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6690، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1811، 5854، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 7800، 7801، وبغوي فى «شرح السنة» ‏‏‏‏برقم: 3083
شیخ سلیم ہلالی کہتے ہیں کہ یہ سند امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور حکماً مرفوع ہے۔، فواد عبدالباقي نمبر: 48 - كِتَابُ اللِّبَاسِ-ح: 7»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1653
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَنَظَرَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، فَقَالَ: " مَاذَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ؟ وَمَاذَا وَقَعَ مِنَ الْفِتَنِ؟ كَمْ مِنْ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَ الْحُجَرِ"
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا: رات کو اللہ جل جلالہُ نے کتنے ایک خزانے کھولے، اور کتنے ایک فتنے واقع ہوئے، کتنی عورتیں ایسی ہیں جو دینا میں تو کپڑے پہنے ہوئی ہیں مگر قیامت کے روز ننگی ہوں گی، ہوشیار کر دو ان کوٹھڑیوں والیوں کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 115، 1126، 3599، 5844، 6218، 7069، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 691، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8647، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2196، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27188، والحميدي فى «مسنده» برقم: 294، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6988، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20748، والطبراني فى «الكبير» برقم: 833، فواد عبدالباقي نمبر: 48 - كِتَابُ اللِّبَاسِ-ح: 8»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں