صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ في بَيْعِ الْمُكْرَهِ وَنَحْوِهِ فِي الْحَقِّ وَغَيْرِهِ:
باب: جس کے ساتھ زبردستی کی جائے یا اسی طرح کسی شخص کا بیچنا حق وغیرہ کو مجبوری سے کوئی بیچ کھوچ کا یا اور معاملہ کرے۔
حدیث نمبر: 6944
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ: ذَلِكَ أُرِيدُ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، ثُمَّ قَالَ: الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور جب ہم بیت المدراس کے پاس پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اے قوم یہود! اسلام لاؤ تم محفوظ ہو جاؤ گے۔ یہودیوں نے کہا: ابوالقاسم! آپ نے پہنچا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بھی یہی مقصد ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اور یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم آپ نے پہنچا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی فرمایا۔ اور پھر فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں جلا وطن کرتا ہوں۔ پس تم میں سے جس کے پاس مال ہو اسے چاہئے کہ جلا وطن ہونے سے پہلے اسے بیچ دے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِكْرَاهِ/حدیث: 6944]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک مرتبہ ہم مسجد میں تھے کہ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”یہودیوں کے پاس چلو۔“ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، جب ہم بیت المدراس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دی: ”اے قومِ یہود! اسلام قبول کر لو تم سلامتی میں رہو گے۔“ انہوں نے کہا: ”اے ابوالقاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ارادہ بھی یہی تھا (کہ تم اس کا اعتراف کرو)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان سے یہی فرمایا تو انہوں نے پھر کہا: ”اے ابوالقاسم! آپ نے تبلیغ کر دی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھی یہی فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تنبیہ کی اور فرمایا: ”تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں (اس سرزمین سے) جلاوطن کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا تم میں سے جس کے پاس مال ہو اسے چاہیے کہ جلاوطن ہونے سے پہلے پہلے اسے فروخت کر دے، بصورتِ دیگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِكْرَاهِ/حدیث: 6944]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة