🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. الْحَسَبُ الْمَالُ، وَالْكَرَمُ التَّقْوَى
حسب مال اور بزرگی تقویٰ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20
20 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْكِنْدِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُبَارَكٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ نُعَيْمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى»
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور بزرگی تقویٰ ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، عبدالرحمن بن عمر کندی، یعقوب بن مبارک اور اسماعیل بن محمود بن نعیم کے حالات نہیں ملے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21
21 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ الْخَوْلَانِيُّ، أنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو الْبَهِيِّ مَيْمُونُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَوْحٍ التَّنُوخِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ بَحْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَالْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ أَبُو عُبَيْدٍ النَّحْوِيُّ، ثنا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَسَبُ الْمَالُ، وَالْكَرَمُ التَّقْوَى»
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور بزرگی تقویٰ ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الترمذي: 3271، وابن ماجه: 4219، و أحمد: 5/ 10» قتادہ مدلس کا عنعنہ ہے۔ قال الشيخ زبير على زئي: (3271) إسناده ضعيف
وضاحت: فائدہ: سیدنا برید ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا والوں کے نزدیک حسب مال ہے جس کی طرف وہ جاتے ہیں۔ (نسائی: 3225، وسندہ صحیح) اور قرآن مجید میں ہے: «إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ‏‏‏‏(الحجرات: 13) بے شک تم میں سب سے زیادہ بزرگی والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: لوگوں میں سب سے زیادہ بزرگی والا کون ہے ؟ پھر خود ہی جواب دیا کہ ان میں سب سے زیادہ بزرگی والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے ۔ (بخاری: 4689)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں