🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

149. أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ الصَّلَاةُ
تم اپنے دین میں سے سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 216
216 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا ثَوَابُ بْنُ حَجِيلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ الصَّلَاةُ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے دین میں سے سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 216]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه السلسلة الصحيحة: 1739» ثواب بن حجیل کی توثیق نہیں ملی۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 217
217 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ التَّبُوذَكِيُّ، ثنا تَوَّابُ بْنُ حَجِيلٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ الصَّلَاةُ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے دین میں سے سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه السلسلة الصحيحة: 1739» ثواب بن حجیل کی توثیق نہیں ملی۔
وضاحت: فائده: -
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم اپنے دین میں سب سے پہلے امانت گم پاؤ گے اور آخر میں نماز گم پاؤ گے اور عنقریب ایک قوم نماز پڑھے گی لیکن ان کا دین نہیں ہوگا اور بے شک یہ جو قرآن تمہارے اندر موجود ہے یہ بھی تم سے چھین لیا جائے گا۔ راوی کہتا ہے: میں نے کہا: اے عبداللہ! وہ کیسے؟ حالانکہ اسے تو اللہ نے ہمارے دلوں میں نقش کر دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس پر ایک رات گزرے گی کہ مصحف اٹھا لیا جائے گا اور جو تمہارے دلوں میں ہے وہ چھین لیا جائے گا۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی:
﴿وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا﴾ (بنی اسرائیل: 86)
”اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی آپ کی طرف ہم نے اتاری ہے سب سلب کر لیں پھر آپ کو اس کے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی میسر نہ آسکے۔“ [مصنف ابن ابي شبة: 38740، وسنده صحيح]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں