🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

178. أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ وَالسَّبْعِينَ
میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 252
أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ أَبِي غَسَّانَ الْفَارِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّوزْبَهَانِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ إِدْرِيسَ السَّامِرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ , أبنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ , ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سَهْلٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ، وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت (کے لوگوں) کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہوں گی اور بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو اس سے متجاوز ہوں گے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 252]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ترمذي: 3550، وابن ماجه: 4236، وابويعلي: 5990»
وضاحت: تشریح:
اس حدیث مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لوگوں کی عمروں کے حوالے سے پیش گوئی فرمائی ہے کہ زیادہ تر لوگوں کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہوں گی اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اکثر لوگ عمر کے اسی حصے میں اللہ تعالیٰ ٰ کو پیارے ہورہے ہیں، بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ستر سے اوپر جاتے ہیں، ساٹھ سے ستر تک کی عمر متوسط عمر ہے۔ نہ تو بہت کم کہ انسان دنیا ہی نہ دیکھ سکے اور زندگی کا لطف ہی نہ اٹھا سکے اور نہ بہت زیادہ کہ انسان اپنی زندگی سے تنگ آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اس امت کو معتدل امت بنایا ہے۔ اسی طرح ان کی عمریں بھی اعتدال والی رکھی ہیں، لہٰذا انسان کو چاہیے کہ عمر کے اس حصہ میں آکر ہی کم از کم اپنے خالق و مالک کی نافرمانی چھوڑ دے۔ حدیث مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے اس آدمی کے لیے کوئی عذر نہیں چھوڑا جس کی موت کو اتنا مؤخر کر دیا کہ وہ ساٹھ سال کو پہنچ گیا۔ [بخاري: 6419]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں