🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

183. الْحَلِفُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ
قسم توڑنا ہوتی ہے یا اس پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 260
260 - أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَلِفُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم توڑنا ہوتی ہے یا اس پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 260]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه: 2103، والمعجم الصغير: 1083، وابن حبان: 4356» بشار بن کدام ضعیف ہے۔
نوٹ:
مؤلف کی سند بظا ہر صحیح معلوم ہوتی ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں لیکن اس میں جو علت ہے وہ بشار بن کدام کی بجائے مسعر بن کدام کا آنا ہے۔ ہمیں تلاش بسیار کے باوجود ابومعاویہ الضریر کے شیوخ میں مسعر کا نام نہیں ملا اور نہ ہی مسعر کے شاگردوں میں معاویہ کا نام ملا ہے ہاں شیوخ میں بشار اور بشار کے شاگردوں میں معاویہ کا نام ملتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قاضی کے علاوہ باقی محدثین کی سندوں میں ابومعاویہ از بشار بن کدام ہے نہ کہ ابومعاویہ از مسعر بن کدام۔ ان باتوں سے یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بشار کی جگہ مسعر کا نام آنا کسی کاتب یا راوی کا سہو ہے۔ واللہ اعلم

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 261
261 - وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ وَذُو النُّونِ قَالَا: ثنا الْعَسْكَرِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَلِفُ نَدَمٌ أَوْ مَنْدَمَةٌ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم توڑنا پڑتی ہے یا اس پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 261]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه: 2103، والمعجم الصغير: 1083، وابن حبان: 4356» بشار بن کدام ضعیف ہے۔
نوٹ:
مؤلف کی سند بظا ہر صحیح معلوم ہوتی ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں لیکن اس میں جو علت ہے وہ بشار بن کدام کی بجائے مسعر بن کدام کا آنا ہے۔ ہمیں تلاش بسیار کے باوجود ابومعاویہ الضریر کے شیوخ میں مسعر کا نام نہیں ملا اور نہ ہی مسعر کے شاگردوں میں معاویہ کا نام ملا ہے ہاں شیوخ میں بشار اور بشار کے شاگردوں میں معاویہ کا نام ملتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قاضی کے علاوہ باقی محدثین کی سندوں میں ابومعاویہ از بشار بن کدام ہے نہ کہ ابومعاویہ از مسعر بن کدام۔ ان باتوں سے یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بشار کی جگہ مسعر کا نام آنا کسی کاتب یا راوی کا سہو ہے۔ واللہ اعلم

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں