🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

205. الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
پنی ہبہ کرده چیز واپس لینے والا شخص اس کتے کی مثل ہے جو اپنی ہی قے چاٹنے لگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 288
288 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الشَّاهِدُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ، لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ہبہ کردہ چیز واپس لینے والا شخص اس کتے کی مثل ہے جو اپنی ہی قے چاٹنے لگے ہمارے لیے بری مثال نہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 288]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 2589، ومسلم: 1622، وأبو داود: 3522، وابن ماجه: 2385، والنسائي: 3728، وترمذي: 1298»
وضاحت: تشریح:
اس حدیث مبارک سے پتا چلا کہ کسی کو ہبہ و تحفہ دے کر واپس لینا حرام ہے اور یہ اس قدر قبیح و رذیل فعل ہے کہ جیسے کتا قے کرے اور پھر خود ہی اسے چاٹنے لگے۔ یہاں کتے کے ساتھ تشبیہ سے مقصود حرام کو بہت قبیح صورت میں پیش کرنا، اسے قابل نفرت بنانا اور اس کے نہایت برے منظر کو پیش کرنا ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ ہمیں بری مثال کا مصداق نہیں بننا چاہیے، ہبہ کردہ چیز واپس لینے والا شخص اس کتے کی مثل ہے جو اپنی ہی تے چاٹنے لگے۔ [بخاري: 2622]
ایک روایت میں ہے کہ جو شخص کسی کو عطیہ دے تو پھر اس کے لیے جائز نہیں کہ اسے واپس لے مگر والد جو اپنی اولا دکو عطیہ دے، وہ اسے واپس لے سکتا ہے اور جو شخص تحفہ دے کر واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی مثل ہے جو کھاتا رہتا ہے حتی کہ جب ضرورت سے زیادہ سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر اپنی ہی تے چاٹنے لگ جاتا ہے۔ [ترمذي 1299، صحيح]
اس مؤخر الذکر حدیث سے پتا چلا کہ والد کے لیے رجو ع جائز ہے یعنی وہ اپنی اولاد کو ہبہ کردہ چیز واپس لے سکتا ہے اس کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ اپنی ہبہ کردہ چیز واپس لے۔
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے ایک گھوڑا دیا اس شخص نے اسے ضائع کر دیا (اچھی طرح دیکھ بھال نہ کی) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ خریدنے کا ارادہ کیا اور گمان یہ کیا کہ وہ اسے معمولی قیمت پر بیچ دے گا لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خریدنا اور اپنا صدقہ واپس مت لینا اگر چہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں دے کیونکہ اپنا صدقہ واپس لینے والا اس کتے کی مثل ہے جو اپنی ہی قے کو چاٹنے لگتا ہے۔“ [بخاري: 2623] اس حدیث سے پتا چلا کہ اپنی صدقہ کی ہوئی چیز کو قیمتاً خریدنا بھی جائز نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں