🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

223. الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَا يَمْلِكُ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
ایسی چیز ظاہر کرنے والا جس کا وہ مالک نہ ہو، جھوٹ کا جوڑا زیب تن کرنے والے (دھو کے باز) کی مانند ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
308 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الشَّاهِدُ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ الْقَاسِمِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءِ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَا يَمْلِكُ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی چیز ظاہر کرنے والا جس کا وہ مالک نہ ہو، جھوٹ کا جوڑا زیب تن کرنے والے (دھوکے باز) کی مانند ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 308]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 5219، ومسلم: 2130، وأبو داود: 4997،»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 309
309 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا ابْنُ جَامِعٍ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَهُ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی چیز ظاہر کرنے والا جو اسے نہ دی گئی ہو، جھوٹ کا جوڑا زیب تن کرنے والے کی مانند ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 309]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 5219، ومسلم: 2130، وأبو داود: 4997،»
وضاحت: تشریح:
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے، کیا مجھے اس بات پر گناہ ہوگا اگر میں (اس پر) یہ ظاہر کروں کہ مجھے خاوند کی طرف سے خوب مل رہا ہے حالانکہ مجھے (اس کی طرف سے) وہ چیزیں نہیں مل رہی ہوتیں؟ تو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی چیز ظاہر کرنے والا جو اسے نہ دی گئی ہو، وہ جھوٹ کا جوڑا زیب تن کرنے والے کی مثل ہے۔“ [بخاري: 5219]
یہ حدیث بڑی جامع اور اپنے اندر وسیع مفہوم لیے ہوئے ہے۔ اس میں ہر قسم کی تصنع اور بناوٹ کی مذمت فرمائی گئی ہے۔ خواہ سوکنیں آپس میں ایک دوسری کو تنگ کرنے کے لیے ایسا کریں یا کوئی دوسرا شخص لوگوں کو اپنی ”شو“ دکھانے کے لیے ایسا کرے، کسی کے لیے بھی جائز نہیں۔ بعض لوگوں کو بڑا بننے کا شوق ہوتا ہے مگر ان کے اندر بڑا بننے کی صلاحیتیں نہیں ہوتیں اس لیے وہ جھوٹ کا سہارا لے کر خود کو دوسروں کے سامنے بڑا ظاہر کرتے ہیں، مثلاً: وہ اپنے آپ کو بڑا عالم و فاضل ظاہر کرتے ہیں، حالانکہ جاہل ہوتے ہیں، اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے بڑا ذہین و فطین ظاہر کرتے ہیں حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے، اسی طرح دوسروں کی تحقیق پڑھ کر یا ان سے سن کر اسے اپنی تحقیق باور کرواتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو عمدہ لباس پہن کر اپنے آپ کو بڑا امیر اور دولت مند ظاہر کرتے ہیں۔ مذکورہ حدیث میں اس طرح کی تمام باتوں کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے کہ یہ سب جھوٹ اور فریب پر مبنی ہیں اور سخت گناہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ٰ کافرمان ہے:
﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوا وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ‎(آل عمران: 188)
”آپ ان لوگوں کو ہرگز خیال نہ کریں جو ان کاموں پر خوش ہوتے ہیں جو انہوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان کاموں پر کی جائے جو انہوں نے کیے ہی نہیں پس آپ انہیں عذاب سے بچ نکلنے والا ہرگز خیال نہ کریں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں