🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

253. مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
اللہ تعالیٰ ٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کا تفقہ (سمجھ بوجھ) عطا فرماتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 345
345 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْكَاتِبُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثنا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کا تفقہ (سمجھ بوجھ) عطا فرماتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابومسلم محمد بن أحمد بن علی کی توثیق نہیں ملی۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 346
346 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ، يَقُولُ: قَالَ مُعَاوِيَةُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ» قَالَ: سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن کعب کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کا تفقہ عطا فرماتا ہے۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں۔ [مسند الشهاب/حدیث: 346]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري: 71، ومسلم: 1037، وأحمد: 1/ 93»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث مبارک سے پتا چلا کہ دین کا تفقہ، اس کا فہم، اور اس کی سمجھ بوجھ خیر عظیم اور نعمت، عظمٰی ہے اور یہ صرف اسی خوش نصیب کے حصے میں آتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ ٰ خوش ہو اور جس کے ساتھ اس نے بھلائی کا ارادہ کیا ہو۔
اس حدیث میں اس شخص کے لیے بڑی خوشخبری ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی سمجھ بوجھ سے نوازا ہے۔ دین کی سمجھ بوجھ میں سرفہرست اللہ تعالیٰ ٰ کی معرفت اور توحید ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰ کا فرمان ہے:
﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ (محمد: 19) ”پس جان لیجیے حقیقت یہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں ہے۔“ توحید کی سمجھ آگئی تو خیر اور بھلائی مل گئی اور اگر توحید ہی سمجھ میں نہ آسکی تو خواہ کتنے ہی علوم کیوں نہ جانتا ہو، خیر و بھلائی سے محروم ہے۔ یہ علوم دنیا کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتے ہیں مگر آخرت کے لیے نہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں