🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

261. مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
جس نے ہمارے اس حکم (دین) میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 359
359 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ آزَادْمَرْدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ خَلَفٍ الْبَزَّارُ، صَاحِبُ أَبِي ثَوْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمارے اس حکم (دین) میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 359]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري: 2697، ومسلم: 1718، وأبو داود: 4606، وابن ماجه: 14، وأحمد فى «مسنده» برقم: 25088»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 360
360 - وأنا ابْنُ السِّمْسَارُ، أنا أَبُو زَيْدٍ، أنا الْفَرَبْرِيُّ، أنا الْبُخَارِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا ابْنُ سَعْدٍ يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے اپنی سند کے ساتھ اسی کی مثل حدیث بیان کی ہے۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 360]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري: 2697، ومسلم: 1718، وأبو داود: 4606، وابن ماجه: 14، وأحمد فى «مسنده» برقم: 25088»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 361
361 - وَأَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَأْمُونٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارِيُّ، نا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ابراہیم بن سعد نے اپنی سند کے ساتھ اسی کی مثل حدیث بیان کی ہے۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري: 2697، ومسلم: 1718، وأبو داود: 4606، وابن ماجه: 14، وأحمد فى «مسنده» برقم: 25088»
وضاحت: تشریح: -
یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ مثلا:
➊ ”جس نے ہمارے اس حکم میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔“ [بخاري: 2697]
➋ ”جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔“ [شرح السنته: 103وسنده حسن]
➌ ”جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تھا تو وہ مردود ہے۔“ [المخلصيات لابي الطاهر: 439وسنده حسن]
➍ ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تھا تو وہ مردود ہے۔“ [مسلم: 1718]
ان جملہ مرویات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دین اسلام میں بدعات کی گنجائش قطعاً نہیں۔ یہ دین مکمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰ نے ہم پر اپنی نعمت پوری فرما دی ہے اور ہمارے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ اس دین میں کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی کہ جسے بعد والے آکر پورا کریں لہٰذا جو شخص دین کے نام پر کوئی ایسا کام کرے جس کی ادلہ شرعیہ میں کوئی دلیل نہ ہو تو وہ کام مردود ہے ثواب کے بجائے عذاب ہے اور ایسا کرنے والا بدعتی ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں