مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
298. مَنْ أَصْبَحَ لَا يَنْوِي ظُلْمَ أَحَدٍ غُفِرَ لَهُ مَا جَنَى
جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ اس کی کسی پر ظلم کرنے کی نیت نہ تھی تو اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں
حدیث نمبر: 425
425 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ الْمُحَبَّرِ، ثنا الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَصْبَحَ لَا يَنْوِي ظُلْمَ أَحَدٍ غُفِرَ لَهُ مَا جَنَى»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ اس کی کسی پر ظلم کرنے کی نیت نہ تھی تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 425]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، وأخرجه ابن الاعرابي: 1935، وتاريخ مدينة السلام: 4/522» ہیاج بن بسطام اور داود بن محبر ضعیف ہے، اس میں ایک اور بھی علت ہے۔