🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

392. فَرَغَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنِ خَمْسٍ: مِنْ عَمَلِهِ، وَأَجَلِهِ، وَأَثَرِهِ، وَرِزْقِهِ وَمَضْجَعِهِ لَا يَتَعَدَّاهُنَّ عَبْدٌ
اللہ ہر بندے کی پانچ چیزوں (کو لکھ کر ان) سے فارغ ہو چکا ہے: اس کا عمل، اس کی موت، اس کی زندگی، اس کا رزق اور اس کا ٹھکانا، کوئی بندہ ان (کے متعلق اللہ کی لکھت) سے آگے نہیں بڑھ سکتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 602
602 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الرِّيَاشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ صُبَيْحٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَرَغَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنِ خَمْسٍ: مِنْ عَمَلِهِ، وَأَجَلِهِ، وَأَثَرِهِ، وَرِزْقِهِ وَمَضْجَعِهِ لَا يَتَعَدَّاهُنَّ عَبْدٌ"
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہر بندے کی پانچ چیزوں (کو لکھ کر ان) سے فارغ ہو چکا ہے: اس کا عمل، اس کی موت، اس کی زندگی، اس کا رزق اور اس کا ٹھکانا، کوئی بندہ ان (کے متعلق اللہ کی لکھت) سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 602]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه السنة لابن ابي عاصم: 324، و تاريخ دمشق: 52/ 391»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث کا تعلق مسئلہ تقدیر سے ہے جس پر ایمان لانا واجب ہے۔ تقدیر کے متعلق جو بھی باتیں کتاب و سنت سے ثابت ہیں وہ سب برحق ہیں، ہمارا ان پر ایمان ہے۔ اگر چہ ہر چیز تقدیر میں لکھی ہوئی ہے لیکن یہاں بطور خاص پانچ بڑی اہم چیز میں بیان فرمائی گئی ہیں کیونکہ انسان کی دوڑ دھوپ عموما انہی چیزوں کے لیے رہتی ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی عمل میں مصروف ہے وہ جو کچھ کر رہا ہے، اچھا ہو یا برا، سب تقدیر میں لکھا ہوا ہے۔
موت سے ہر کوئی بھاگتا ہے کوئی بھی شخص مرنا پسند نہیں کرتا لیکن موت کا وقت بھی مقرر ہے، انسان لاکھ کوشش کر لے لیکن وقت مقررہ ٹل نہیں سکتا۔ اسی طرح انسان کی عمر اور زندگی بھی لکھی ہوئی ہے جو اس نے بہر صورت گزارنی ہے، اس میں کمی و بیشی نہیں ہو سکتی۔ رزق بھی قسمت میں لکھا جا چکا ہے، انسان جتنی مرضی محنت و کوشش کر لے مگر ملنا وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہوا ہے، اس سے زیادہ یا کم نہیں لے گا۔ ٹھکانا بھی مقرر ہے، دنیا میں جس جگہ اس نے رہنا ہے اور مرنے کے بعد اس نے کہاں دفن ہونا ہے اور اسی طرح اس کا ابدی ٹھکانا جنت ہے یا جہنم؟ سب تقدیر میں لکھا جا چکا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں