صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ الْقَصْرِ فِي الْمَنَامِ:
باب: خواب میں محل دیکھنا۔
حدیث نمبر: 7023
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، قُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟، قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَبَكَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ثُمَّ قَالَ: أَعَلَيْكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ جنت کے محل کے ایک کنارے ایک عورت وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ پھر میں نے ان کی غیرت یاد کی اور وہاں سے لوٹ گیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر رو پڑے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7023]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک وقت سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں خود کو جنت میں دیکھا۔ وہاں ایک عورت ایک محل کے کونے میں وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ بتایا کہ یہ محل عمر بن خطاب کا ہے، مجھے عمر کی غیرت یاد آگئی تو میں وہاں سے لوٹ آیا۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے، انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ پر غیرت کرتا؟“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7023]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7024
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟، فَقَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِلَّا مَا أَعْلَمُ مِنْ غَيْرَتِكَ"، قَالَ: وَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک سونے کا محل مجھے نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ کہا کہ قریش کے ایک شخص کا۔ اے ابن الخطاب! مجھے اس کے اندر جانے سے تمہاری غیرت نے روک دیا ہے جسے میں خوب جانتا ہوں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7024]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں (بحالت خواب) جنت میں داخل ہوا۔ وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ سونے کے محل میں داخل ہو رہا ہوں۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محل ایک قریشی مرد کا ہے۔ اے ابن الخطاب! مجھے اس کے اندر جانے سے تمہاری غیرت نے روک دیا جسے میں خوب جانتا ہوں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کے رسول! کیا میں آپ پر غیرت کر سکتا ہوں؟“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7024]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة