🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ الطَّوَافِ بِالْكَعْبَةِ فِي الْمَنَامِ:
باب: خواب میں کعبہ کا طواف کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7026
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: ابْنُ مَرْيَمَ، فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: هَذَا الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ، وَابْنُ قَطَنٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ ابن عمر نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے، گندم گوں بال لٹکے ہوئے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان (سہارا لیے ہوئے تھے) ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ، بھاری جسم والا، گھنگریالے بال والا اور ایک آنکھ سے کانا جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔ یہ عبدالعزیٰ بن قطن مطلق میں تھا جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7026]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ میں سو رہا تھا کہ میں نے خود کو کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔ اس دوران میں نے ایک گندم گوں آدمی دیکھا جس کے بال سیدھے تھے۔ وہ دو آدمیوں کے درمیان اس حالت میں تھا کہ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ عیسیٰ ابن مریم ہیں۔ پھر میں جانے لگا تو اچانک ایک سرخ بھاری جسم والے پر نظر پڑی جس کے بال گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا، گویا اس کی آنکھ ابھرے ہوئے انگور کی طرح تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ دجال ہے۔ اس کی شکل وصورت ابن قطن سے ملتی جلتی تھی۔ ابن قطن خزاعہ قبیلے سے بنو مصطلق کا ایک فرد تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7026]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں