صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ الأَمْنِ وَذَهَابِ الرَّوْعِ فِي الْمَنَامِ:
باب: خواب میں آدمی اپنے تئیں بے ڈر دیکھے۔
حدیث نمبر: 7028
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ:" إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَرَوْنَ الرُّؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَأَنَا غُلَامٌ حَدِيثُ السِّنِّ وَبَيْتِي الْمَسْجِدُ قَبْلَ أَنْ أَنْكِحَ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لَوْ كَانَ فِيكَ خَيْرٌ لَرَأَيْتَ مِثْلَ مَا يَرَى هَؤُلَاءِ، فَلَمَّا اضْطَجَعْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيَّ خَيْرًا فَأَرِنِي رُؤْيَا، فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَنِي مَلَكَانِ فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ يُقْبِلَانِ بِي إِلَى جَهَنَّمَ وَأَنَا بَيْنَهُمَا أَدْعُو اللَّهَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهَنَّمَ، ثُمَّ أُرَانِي لَقِيَنِي مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: لَنْ تُرَاعَ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ لَوْ كُنْتَ تُكْثِرُ الصَّلَاةَ، فَانْطَلَقُوا بِي حَتَّى وَقَفُوا بِي عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ لَهُ قُرُونٌ كَقَرْنِ الْبِئْرِ بَيْنَ كُلِّ قَرْنَيْنِ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ وَأَرَى فِيهَا رِجَالًا مُعَلَّقِينَ بِالسَّلَاسِلِ رُءُوسُهُمْ أَسْفَلَهُمْ عَرَفْتُ فِيهَا رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ، فَانْصَرَفُوا بِي عَنْ ذَاتِ الْيَمِينِ،
مجھ سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خواب دیکھتے تھے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر دیتے جیسا کہ اللہ چاہتا۔ میں اس وقت نوعمر تھا اور میرا گھر مسجد تھی یہ میری شادی سے پہلے کی بات ہے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر تجھ میں کوئی خیر ہوتی تو تو بھی ان لوگوں کی طرح خواب دیکھتا۔ چنانچہ جب میں ایک رات لیٹا تو میں نے کہا: اے اللہ! اگر تو میرے اندر کوئی خیر و بھلائی جانتا ہے تو مجھے کوئی خواب دکھا۔ میں اسی حال میں (سو گیا اور میں نے دیکھا کہ) میرے پاس دو فرشتے آئے، ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا تھا اور وہ مجھے جہنم کی طرف لے چلے۔ میں ان دونوں فرشتوں کے درمیان میں تھا اور اللہ سے دعا کرتا جا رہا تھا کہ اے اللہ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر مجھے دکھایا گیا (خواب ہی میں) کہ مجھ سے ایک اور فرشتہ ملا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور اس نے کہا ڈرو نہیں تم کتنے اچھے آدمی ہو اگر تم نماز زیادہ پڑھتے۔ چنانچہ وہ مجھے لے کر چلے اور جہنم کے کنارے پر لے جا کر مجھے کھڑا کر دیا تو جہنم ایک گول کنویں کی طرح تھی اور کنویں کے مٹکوں کی طرح اس کے بھی مٹکے تھے اور ہر دو مٹکوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا۔ جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور میں نے اس میں کچھ لوگ دیکھے جنہیں زنجیروں میں لٹکا دیا گیا تھا اور ان کے سر نیچے تھے۔ (اور پاؤں اوپر) ان میں سے بعض قریش کے لوگوں کو میں نے پہچانا بھی، پھر وہ مجھے دائیں طرف لے کر چلے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7028]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں کچھ صحابہ کرام خواب دیکھتے پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر فرماتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا۔ میں اس وقت نو عمر لڑکا تھا۔ نکاح کرنے سے پہلے میرا گھر مسجد ہی تھا۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر تجھ میں کوئی خیر ہوتی تو تجھے بھی ان لوگوں کی طرح خواب آتے، چنانچہ ایک دفعہ جب میں لیٹا تو دل میں کہا: اے اللہ! اگر تو مجھ میں کوئی بھلائی دیکھتا ہے تو مجھے کوئی خواب دکھا۔ سونے کے بعد اچانک میرے پاس دو فرشتے آئے، ان میں سے ہر ایک کے پاس لوہے کا ہتھوڑا تھا۔ وہ مجھے دوزخ کی طرف لے گئے اور میں ان کے درمیان اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا جا رہا تھا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر مجھے یہ دکھایا گیا کہ مجھے ایک فرشتہ ملا، اس کے ہاتھ میں بھی لوہے کا ہتھوڑا تھا۔ اس نے مجھے تسلی دی کہ: ”گھبرانے کی ضرورت نہیں، تم اچھے آدمی ہو اگر تم زیادہ نماز پڑھنے کا اہتمام کرو۔“ بہرحال وہ مجھے لے گئے اور دوزخ کے کنارے پر مجھے کھڑا کر دیا۔ میں دیکھتا ہوں کہ جہنم، کنویں کی طرح گول ہے، اس کی لکڑیاں ہیں جیسا کہ کنویں کے اوپر لکڑیاں گاڑی ہوتی ہیں۔ ہر دو لکڑیوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا تھا۔ میں نے دوزخ میں ایسے لوگ دیکھے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، ان کے سر نیچے تھے، میں نے اس میں قریش کے کچھ لوگ دیکھے جنہیں میں نے پہچان لیا، پھر وہ (فرشتے) مجھے دائیں جانب لے کر چلے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7028]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7029
فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ"، فَقَالَ نَافِعٌ: فَلَمْ يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ.
بعد میں، میں نے اس کا ذکر اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (سن کر) فرمایا، عبداللہ مرد نیک ہے، (اگر رات کو تہجد پڑھتا ہوتا) نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب سے یہ خواب دیکھا وہ نفل نماز بہت پڑھا کرتے تھے۔ مٹکے جن پر موٹھ کی لکڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7029]
میں نے اس خواب کا ذکر (اپنی ہمشیرہ ام المومنین) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ اچھا آدمی ہے (اگر وہ تہجد کا اہتمام کرے)۔“ (راوی حدیث) حضرت نافع رحمہ اللہ نے کہا: ”اس خواب کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز (تہجد) کا بہت خیال کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة