🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب الأمن وذهاب الروع فى المنام:
باب: خواب میں آدمی اپنے تئیں بے ڈر دیکھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7029
فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ"، فَقَالَ نَافِعٌ: فَلَمْ يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ.
بعد میں، میں نے اس کا ذکر اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (سن کر) فرمایا، عبداللہ مرد نیک ہے، (اگر رات کو تہجد پڑھتا ہوتا) نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب سے یہ خواب دیکھا وہ نفل نماز بہت پڑھا کرتے تھے۔ مٹکے جن پر موٹھ کی لکڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 7029]
میں نے اس خواب کا ذکر (اپنی ہمشیرہ ام المومنین) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے (اگر وہ تہجد کا اہتمام کرے)۔ (راوی حدیث) حضرت نافع رحمہ اللہ نے کہا: اس خواب کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز (تہجد) کا بہت خیال کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 7029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حفصة بنت عمر العدويةصحابي
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3741
عبد الله رجل صالح
صحيح البخاري
7029
عبد الله رجل صالح لو كان يصلي من الليل
صحيح البخاري
7031
إن عبد الله رجل صالح لو كان يكثر الصلاة من الليل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7029 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7029
حدیث حاشیہ:

ابن بطال کہتے ہیں کہ کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جن کی تعبیر نہیں کی جاتی جیسا کہ مذکورہ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی تعبیر نہیں کی بلکہ جو کچھ انھوں نے خواب میں دیکھا تھا اسے بیان کر دیا۔
خواب میں فرشتے نے انھیں کہا تھا کہ تم اچھے آدمی ہو کاش کہ نماز تہجد کا اہتمام کر لو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی الفاظ ادا فرمائے۔

اس سے معلوم ہوا کہ تعبیر کا منبع حضرات انبیاء علیہم السلام کے ارشادات ہیں جیسا کہ خود حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی خواہش رکھتے تھے لیکن خوابوں کی تعبیر حضرات انبیاء علیہم السلام سے بہت کم واقع ہوئی ہے۔
بہرحال اسے بنیاد بنا کر اس فن کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے جیسا کہ ایک فقیہ مسائل کا استنباط کرتا ہے اور اس کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو قرار دیتا ہے۔

اگرچہ یہ علم توفیقی نہیں ہے لیکن اس علم کی بنیاد حضرات انبیاء علیہم السلام کی تعبیروں کو قرار دینا چاہیے، اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے کتاب وسنت کی طرف رجوع ہی بہتر اور خیروبرکت کا باعث ہے۔
(فتح الباري: 523/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7029]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7031
7031. ام المومنین سیدہ ٖحفصہ‬ ؓ ن‬ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےاس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: عبداللہ نیک آدمی ہے اگر وہ رات کو بکثرت نماز پڑھے۔ امام زہری نے کہا: (اس فرمان رسول) کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر ؓ رات میں نفل نماز زیادہ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7031]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوجوانی کے نیک اعمال خدا وند قدوس کو بہت زیادہ پسند ہیں کیونکہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ابھی نوجوان تھے اور فرشتے ان کو نیک اعمال یعنی نماز نفل وتہجد کی طرف ترغیب دے رہے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7031]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3741
3741. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے روایت ہے، وہ اپنی ہمشیرہ حضرت حفصہ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبد اللہ ایک نیک آدمی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3741]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں حضرت عبد اللہ بن عمر ٍ ؓ کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔
ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک اور صالح ہونے کی گواہی دی ہے2۔
اس خواب میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کو مثالی طور پر جہنم دکھائی گئی جس کے دو کنارے تھے شاید یہ کنارے مجرمین کو داخل کرنے اور نکالنے کے لیے ہوں۔
ایک روایت میں ہے کہ ان دونوں کناروں کے درمیان ایک فرشتہ ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کا گرز ہے وہاں آدمی الٹے لٹکائے ہوئے ہیں۔
فرشتوں نے بھی خواب میں کہا تھا:
آپ بہت اچھے آدمی ہیں اگر آپ کثرت نوافل کا اہتمام کریں، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے آخر دم تک شب بیداری کی پابندی کی۔
(صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 7028)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3741]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7031
7031. ام المومنین سیدہ ٖحفصہ‬ ؓ ن‬ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےاس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: عبداللہ نیک آدمی ہے اگر وہ رات کو بکثرت نماز پڑھے۔ امام زہری نے کہا: (اس فرمان رسول) کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر ؓ رات میں نفل نماز زیادہ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7031]
حدیث حاشیہ:

اس سے معلوم ہوا کہ اگربحالت خواب چلتے وقت دائیں جانب اختیار کرتاہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن اصحاب الیمین،یعنی اہل جنت میں سے ہوگا۔
(فتح الباري: 524/12)

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بحالت جوانی نیک اعمال اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں کیونکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی جوان تھے اور فرشتے انھیں نیک اعمال، یعنی تہجد ونوافل پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے، پھر انھوں نے اس کا اہتمام کیا، رات بکثرت تہجد پڑھا کرتے تھے کسی نے خوب کہا ہے:
۔
درجوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری۔
۔
۔
وقت پیری گرگ ظالم مے شود پرہیز گار۔
۔
۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کنوارا آدمی مسجد میں سو سکتا ہے اور خواب بیان کرنے میں کسی کو نائب بنانا بھی جائز ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7031]

Sahih Bukhari Hadith 7029 in Urdu