مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
507. إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُعْلِمْهُ
جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے آگاہ کر دے
حدیث نمبر: 765
765 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَاجِّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ يُونُسَ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا الْأَزْوَرُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، أَوْ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُعْلِمْهُ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے آگاہ کر دے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 765]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه المعجم الكبير: 13361، شعب الايمان: 8594»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 766
766 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَذَنِيُّ، أبنا جَدِّي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ فِيلٍ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ الْمَكِّيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُعْلِمْهُ»
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے آگاہ کر دے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 766]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، مطلب بن عبد اللہ بن حطب مدلس کا سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔
وضاحت: تشریح: -
علماء کا کہنا ہے کہ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ جب اس شخص کو معلوم ہوگا کہ فلاں شخص مجھ سے للہ فی اللہ محبت رکھتا ہے تو وہ بھی اس سے محبت رکھے گا، اس کے حقوق کی پاسداری کرے گا، اس کے حق میں دعا گو اور خیر خواہ رہے گا، یوں دونوں طرف سے محبت میں اضافہ ہوگا۔
علماء کا کہنا ہے کہ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ جب اس شخص کو معلوم ہوگا کہ فلاں شخص مجھ سے للہ فی اللہ محبت رکھتا ہے تو وہ بھی اس سے محبت رکھے گا، اس کے حقوق کی پاسداری کرے گا، اس کے حق میں دعا گو اور خیر خواہ رہے گا، یوں دونوں طرف سے محبت میں اضافہ ہوگا۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف