مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
572. لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ
کسی مال دار شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں
حدیث نمبر: 884
884 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ»
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مالدار شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں اور نہ ہی کسی طاقتور، تندرست شخص کے لیے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 884]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 1483، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1634، والترمذي فى «جامعه» برقم: 652، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1679، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6641»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 885
885 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا وَهْبٌ، أبنا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مالدار شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں اور نہ ہی کسی طاقتور، تندرست شخص کے لیے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 885]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن ماجه: 1839، النسائي: 2598، وأحمد: 377/2»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال دار اور ایسے تندرست و توانا شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں جو کمائی کے قابل ہو۔ عبید اللہ بن عدی بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ اس وقت صدقہ تقسیم کر رہے تھے، انہوں نے آپ سے صدقہ کی درخواست کی تو آپ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا آپ نے ہمیں طاقت ور دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مال دار شخص اور کمائی کی طاقت رکھنے والے شخص کے لیے کوئی حصہ نہیں۔“ [أبو داود: 1933، وسنده صحيح] مزید دیکھیں حدیث نمبر 826, 822۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال دار اور ایسے تندرست و توانا شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں جو کمائی کے قابل ہو۔ عبید اللہ بن عدی بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ اس وقت صدقہ تقسیم کر رہے تھے، انہوں نے آپ سے صدقہ کی درخواست کی تو آپ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا آپ نے ہمیں طاقت ور دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مال دار شخص اور کمائی کی طاقت رکھنے والے شخص کے لیے کوئی حصہ نہیں۔“ [أبو داود: 1933، وسنده صحيح] مزید دیکھیں حدیث نمبر 826, 822۔
الحكم على الحديث:
إسناده حسن