🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
572. لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ
کسی مال دار شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 885
885 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا وَهْبٌ، أبنا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مالدار شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں اور نہ ہی کسی طاقتور، تندرست شخص کے لیے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 885]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن ماجه: 1839، النسائي: 2598، وأحمد: 377/2»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال دار اور ایسے تندرست و توانا شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں جو کمائی کے قابل ہو۔ عبید اللہ بن عدی بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ اس وقت صدقہ تقسیم کر رہے تھے، انہوں نے آپ سے صدقہ کی درخواست کی تو آپ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا آپ نے ہمیں طاقت ور دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مال دار شخص اور کمائی کی طاقت رکھنے والے شخص کے لیے کوئی حصہ نہیں۔“ [أبو داود: 1933، وسنده صحيح] مزید دیکھیں حدیث نمبر 826, 822۔

الحكم على الحديث:
إسناده حسن


Musnad al-Shihab Hadith 885 in Urdu