مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
728. «إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رَوْعِي»
بے شک روح القدس نے میرے دل میں پھونکا
حدیث نمبر: 1151
1151 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أبنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ»
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، زبید یامی کو خبر دینے والا مجہول ہے۔
حدیث نمبر: 1152
1152 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُدْفُوِيُّ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ، أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُرَيْرِيُّ إِجَازَةً، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: قَالَ جَابِرٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِزْقَهُ، وَلَا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ، وَاتَّقُوا اللَّهَ، وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، وَخُذُوا مَا حَلَّ وَذَرُوا مَا حَرُمَ»
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه: 2144، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3239، 3241، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2144، 2145، 8019، السنة لابن ابي عاصم: 420»
ابوز بیر اور ابن جریج مدلس راویوں کا عنعنہ ہے۔
ابوز بیر اور ابن جریج مدلس راویوں کا عنعنہ ہے۔
وضاحت: فائده: -
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رزق کو مؤخر نہ سمجھو کیونکہ بندہ اس وقت تک ہرگز نہ مرے گا جب تک اپنے حصہ کے رزق کے آخری ٹکڑے کو نہ پہنچ جائے لہٰذا تم عمدہ (جائز) طریقے سے رزق طلب کرو یعنی حلال پکڑ لو اور حرام ترک کر دو۔“ [موارد الظلمان: 1984، 1985، وسنده صحيح]
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رزق کو مؤخر نہ سمجھو کیونکہ بندہ اس وقت تک ہرگز نہ مرے گا جب تک اپنے حصہ کے رزق کے آخری ٹکڑے کو نہ پہنچ جائے لہٰذا تم عمدہ (جائز) طریقے سے رزق طلب کرو یعنی حلال پکڑ لو اور حرام ترک کر دو۔“ [موارد الظلمان: 1984، 1985، وسنده صحيح]