مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
823. نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ
سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے
حدیث نمبر: 1319
1319 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَاتِبُ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ»
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم: 2058، وأبو داود: 3821، والترمذي: 1839، وابن ماجه: 3317، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14445»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 1320
1320 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي طَالِبٍ الْقَاصُّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ وَكَفَى بِالْمَرْءِ شَرًّا أَنْ يَتَسَخَّطَ بِمَا قُرِّبَ إِلَيْهِ»
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے اور آدمی کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ جو چیز اس کے قریب کی جائے وہ اسے ناپسند کرے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابويعلي: 1981، الكامل لابن عدى: 9/ 89، شعب الايمان: 5483»
ابوطالب القاص ضعیف ہے۔
ابوطالب القاص ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1321
1321 - نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَنْبَارِيُّ، نا جَدِّي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ شَرًّا أَنْ يَتَسَخَّطَ مَا قُرِّبَ إِلَيْهِ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے اور آدمی کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ جو چیز اس کے قریب کی جائے وہ اسے ناپسند کرے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابويعلي: 1981، الكامل لابن عدى: 9/ 89، شعب الايمان: 5483»
ابوطالب القاص ضعیف ہے۔
ابوطالب القاص ضعیف ہے۔
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں سرکے کی تعریف اور اس کا سالن کی جگہ استعمال ہونا بتایا گیا ہے۔ سرکہ طبعی طور پر بھی بڑی مفید چیز ہے لہٰذا اسے بطور سالن اور سالن کے علاوہ بھی استعمال کرتے رہنا چاہیے۔ اس حدیث مبارک سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ سادہ زندگی بسر کرنا اور کھانے پینے میں تکلفات سے گریز کرنا جسم و جان اور روح و بدن کے لیے مفید ہے۔
ان احادیث میں سرکے کی تعریف اور اس کا سالن کی جگہ استعمال ہونا بتایا گیا ہے۔ سرکہ طبعی طور پر بھی بڑی مفید چیز ہے لہٰذا اسے بطور سالن اور سالن کے علاوہ بھی استعمال کرتے رہنا چاہیے۔ اس حدیث مبارک سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ سادہ زندگی بسر کرنا اور کھانے پینے میں تکلفات سے گریز کرنا جسم و جان اور روح و بدن کے لیے مفید ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف