🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

828. أَسْرَعُ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ
سب سے جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے دعا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1328
1328 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْرَعُ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے دعا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود: 1535، والترمذي: 1980، الادب المفرد: 623»
عبدالرحمٰن بن زیادضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1329
1329 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُدْفُوِيُّ، نا أَبُو الطَّيِّبِ، أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُرَيْرِيُّ إِجَازَةً، نا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، نا فُرَاتُ بْنُ تَمَامٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَسْرَعُ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: سب سے جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے دعا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، فرات بن تمام کی توثیق نہیں ملی، اس میں ایک اور علت بھی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1330
1330 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ يَحْيَى بْنُ عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَيَّاشُ، نا إِسْحَاقُ، هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے دعا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود: 1535، والترمذي: 1980، الادب المفرد: 623»
عبدالرحمٰن بن زیادضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
صفوان بن عبد الله بن صفوان۔ جن کے نکاح میں درداء بنت ابی درداء تھیں۔ بیان کرتے ہیں کہ میں ملک شام میں اپنے سسرال کے پاس آیا تو مجھے ام درداء گھر میں ملی لیکن ابودرداء نہ ملے۔ ام درداء نے مجھے کہا: کیا تمہارا اس سال حج کرنے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بھی دعائے خیر کرنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: بے شک مسلمان بندے کی دعا اپنے بھائی کے حق میں پیٹھ پیچھے قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب بھی یہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو۔ صفوان کہتے ہیں کہ اس کے بعد بازار میں مجھے ابودرداء مل گئے تو انہوں نے اس طرح کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی۔ [مسلم: 2733، الادب المفرد: 625]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں