مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
828. أَسْرَعُ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ
سب سے جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے دعا ہے
حدیث نمبر: 1330
1330 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ يَحْيَى بْنُ عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَيَّاشُ، نا إِسْحَاقُ، هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے دعا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود: 1535، والترمذي: 1980، الادب المفرد: 623»
عبدالرحمٰن بن زیادضعیف ہے۔
عبدالرحمٰن بن زیادضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
صفوان بن عبد الله بن صفوان۔ جن کے نکاح میں درداء بنت ابی درداء تھیں۔ بیان کرتے ہیں کہ میں ملک شام میں اپنے سسرال کے پاس آیا تو مجھے ام درداء گھر میں ملی لیکن ابودرداء نہ ملے۔ ام درداء نے مجھے کہا: کیا تمہارا اس سال حج کرنے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بھی دعائے خیر کرنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”بے شک مسلمان بندے کی دعا اپنے بھائی کے حق میں پیٹھ پیچھے قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب بھی یہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو۔“ صفوان کہتے ہیں کہ اس کے بعد بازار میں مجھے ابودرداء مل گئے تو انہوں نے اس طرح کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی۔ [مسلم: 2733، الادب المفرد: 625]
صفوان بن عبد الله بن صفوان۔ جن کے نکاح میں درداء بنت ابی درداء تھیں۔ بیان کرتے ہیں کہ میں ملک شام میں اپنے سسرال کے پاس آیا تو مجھے ام درداء گھر میں ملی لیکن ابودرداء نہ ملے۔ ام درداء نے مجھے کہا: کیا تمہارا اس سال حج کرنے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بھی دعائے خیر کرنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”بے شک مسلمان بندے کی دعا اپنے بھائی کے حق میں پیٹھ پیچھے قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب بھی یہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو۔“ صفوان کہتے ہیں کہ اس کے بعد بازار میں مجھے ابودرداء مل گئے تو انہوں نے اس طرح کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی۔ [مسلم: 2733، الادب المفرد: 625]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
Musnad al-Shihab Hadith 1330 in Urdu