🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

852. مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ
آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسے ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی سبابہ انگلی ڈبوئے پھر (نکال کر) دیکھے کہ وہ کتنے پانی کے ساتھ واپس لوٹتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385
1385 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، بِمَكَّةَ، أبنا زَاهِرٌ السَّرَخْسِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، أبنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، أبنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ، أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَثَلِ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ»
بنی قہر کے بھائی سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسے ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی سبابہ انگلی ڈبوئے پھر (نکال کر) دیکھے کہ وہ کتنے پانی کے ساتھ واپس لوٹتی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1385]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2858، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4330، 6159، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6572، 7993، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11797، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2323، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4108، والحميدي فى «مسنده» برقم: 878،وأحمد فى «مسنده» برقم: 18291»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1386
1386 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِي، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ بْنُ سَلْمٍ، قَالَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَثَلِ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ» وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ، وَأَشَارَ يَحْيَى بِالسَّبَّابَةِ
سیدنا مستورد قہری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسے ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی سبابہ انگلی ڈبوئے پھر (نکال کر) دیکھے کہ وہ کتنے پانی کے ساتھ واپس لوٹتی ہے۔ اسے مسلم بن حجاج نے (محدثین کی) ایک جماعت سے روایت کیا ہے جن میں محمد بن حاتم بھی ہیں اور یہ الفاظ انہی کے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمیں یحییٰ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے کہا: کہ ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے اپنی سند کے ساتھ اس طرح بیان کیا اور کہا: جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی یہ انگلی ڈبوئے اور یحییٰ بن سعید نے سبابہ انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1386]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2858، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4330، 6159، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6572، 7993، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11797، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2323، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4108، والحميدي فى «مسنده» برقم: 878،وأحمد فى «مسنده» برقم: 18291»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1387
1387 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُسْتَوْرِدٍ الْفِهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ»
سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا ایسے ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی انگلی ڈبوئے پھر (نکال کر) دیکھے کہ وہ کتنے پانی کے ساتھ واپس لوٹتی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1387]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2858، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4330، 6159، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6572، 7993، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11797، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2323، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4108، والحميدي فى «مسنده» برقم: 878،وأحمد فى «مسنده» برقم: 18291»
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں ایک بڑی خوبصورت مثال کے ذریعے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت بیان فرمائی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح انگلی سے لگے ہوئے قطرے کی سمندر کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں اسی طرح آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ آخرت کی زندگی اور وہاں کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی زندگی اور اس کی نعمتیں اسی قدر قلیل و کمتر ہیں جس قدر سمندر کے مقابلے میں انگلی کو لگا ہوا پانی کا معمولی سا قطرہ۔ لہٰذا آخرت کے لیے کوشش کرنی چاہیے نہ کہ دنیا کے لیے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں