مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
853. إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَلَهُ
جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے شہد بنا دیتا ہے
حدیث نمبر: 1388
1388 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْأَدِيبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْخَرَائِطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، قَالَ: ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سُوَيْدِ الْعُمَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عَسَلَهُ؟ قَالَ: «يَهْدِيهِ لِعَمَلٍ صَالِحٍ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ»
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے شہد بنا دیتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شہد بنانے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”کسی نیک عمل کی طرف اسے ہدایت فرماتا ہے پھر اس پر اس کی روح قبض کر لیتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1388]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف جدا، علی بن یزید سخت ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 1389
1389 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْكَاتِبُ، أبنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا بَقِيَّةُ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَلَهُ» ، قَالُوا: وَمَا عَسَلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «يُفْتَحُ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا فَيَقْبِضُهُ عَلَيْهِ»
سیدنا ابوعنبسہ خولانی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ جب کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے شہد بنا دیتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شہد بنانے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”اس کے لیے نیک عمل (کا دروازہ) کھول دیتا ہے۔ پھر اس (نیک عمل) پر اس کی روح قبض کر لیتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1389]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه أحمد:، السنة لابن ابي عاصم: 400، مسند الشامين: 839»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 1390
1390 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ؟ قَالَ: «يَهْدِيهِ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ»
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے کام کراتا ہے۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ اس سے کس طرح کام کراتا ہے؟ فرمایا: ”اس کی موت سے پہلے نیک عمل کی طرف اسے ہدایت فرماتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1390]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه أحمد 135/4»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ جس بندے پر اللہ تعالیٰ ٰ کا فضل و کرم ہو جاتا ہے اسے موت سے پہلے تو بہ دانابت اور طاعت و عبادت کی توفیق مل جاتی ہے وہ اپنی صالحیت کی وجہ سے لوگوں میں شہد کی طرح میٹھا بن جاتا ہے۔ لوگ اس کو چاہتے ہیں اس سے محبت کرتے ہیں اور پھر اسی حال میں وہ دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے کہ دنیا والے اور آسمان والے دونوں اس سے خوش ہوتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جس بندے پر اللہ تعالیٰ ٰ کا فضل و کرم ہو جاتا ہے اسے موت سے پہلے تو بہ دانابت اور طاعت و عبادت کی توفیق مل جاتی ہے وہ اپنی صالحیت کی وجہ سے لوگوں میں شہد کی طرح میٹھا بن جاتا ہے۔ لوگ اس کو چاہتے ہیں اس سے محبت کرتے ہیں اور پھر اسی حال میں وہ دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے کہ دنیا والے اور آسمان والے دونوں اس سے خوش ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
إسناده حسن