صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ لاَ يَدْخُلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ:
باب: دجال مدینہ کے اندر نہیں داخل ہو سکے گا۔
حدیث نمبر: 7132
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ فَكَانَ فِيمَا يُحَدِّثُنَا بِهِ أَنَّهُ، قَالَ:" يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ، فَيَنْزِلُ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ، أَوْ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ هَلْ تَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ؟، فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ، فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ، فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی، ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال آئے گا اور اس کے لیے ناممکن ہو گا کہ مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہو۔ چنانچہ وہ مدینہ منورہ کے قریب کسی شور والی زمین پر قیام کرے گا۔ پھر اس دن اس کے پاس ایک مرد مومن جائے گا اور وہ افضل ترین لوگوں میں سے ہو گا۔ اور اس سے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا۔ اس پر دجال کہے گا کیا تم دیکھتے ہو اگر میں اسے قتل کر دوں اور پھر زندہ کروں تو کیا تمہیں میرے معاملہ میں شک و شبہ باقی رہے گا؟ اس کے پاس والے لوگ کہیں گے کہ نہیں، چنانچہ وہ اس صاحب کو قتل کر دے گا اور پھر اسے زندہ کر دے گا۔ اب وہ صاحب کہیں گے کہ واللہ! آج سے زیادہ مجھے تیرے معاملے میں پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی۔ اس پر دجال پھر انہیں قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ اسے مار نہ سکے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7132]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں سے یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال آئے گا اور اس کے لیے ناممکن ہوگا کہ وہ مدینہ طیبہ کے راستوں میں داخل ہو، چنانچہ مدینہ طیبہ کے قریب کسی شوریلی زمین پر قیام کرے گا۔ اس دن اس کے پاس ایک مرد مومن جائے گا جو سب لوگوں سے بہتر ہوگا، وہ کہے گا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی تھی۔“ اس پر دجال کہے گا: ”تم ہی بتاؤ اگر میں اسے قتل کر دوں، پھر اسے زندہ کروں تو کیا تمہیں میرے معاملے میں کوئی شک و شبہ باقی رہے گا؟“ لوگ کہیں گے: ”نہیں۔“ چنانچہ دجال اس کو قتل کر دے گا، پھر اسے زندہ کر لے گا۔ اب وہ آدمی کہے گا: ”اللہ کی قسم! آج سے زیادہ مجھے تیرے معاملے میں پہلے اتنی بصیرت کبھی حاصل نہیں تھی۔“ اس کے بعد دجال اسے قتل کرنے کا ارادہ کرے گا لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7132]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7133
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نعیم بن عبداللہ بن المجمر نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ منورہ کے راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں نہ یہاں طاعون آ سکتی ہے اور نہ دجال آ سکتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7133]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ کے راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں، نہ تو یہاں طاعون آ سکتا ہے اور نہ دجال ہی کو آنے کی ہمت ہوگی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7133]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7134
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا، فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ، قَالَ: وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ".
مجھ سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال مدینہ تک آئے گا تو یہاں فرشتوں کو اس کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گا چنانچہ نہ دجال اس کے قریب آ سکتا ہے اور نہ طاعون، ان شاءاللہ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7134]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال مدینہ طیبہ تک آئے گا تو یہاں فرشتوں کو اس کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گا، چنانچہ اگر اللہ نے چاہا تو دجال اس کے قریب نہیں آسکے گا اور نہ یہاں طاعون ہی پھیلے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7134]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة