مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
6. بَابُ ذِكْرِ الْوُضُوءِ لِسَبَبِ أَكْلِ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ
باب آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے سبب وضو کرنے کا ذکر
حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، أَنَّهُ وَجَدَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَوْقَ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ لَهُ: مَا أَتَوَضَّأُ إِلا مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" .
عبداللہ بن قارظ سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے پایا، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس لیے وضو کر رہا ہوں کہ میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے ہیں، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، الحيض، باب الوضوء مما مست النار: 351»