🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. ‏(‏25‏)‏ بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ
شرم گاہ کو چھونے سے وضو کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ، أَنَّهَا سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" . سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: أَرَى الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذِّكْرِ اسْتِحْبَابًا وَلا أُوجِبُهُ. ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ: أَسْتَحِبُّهُ وَلا أُوجِبُهُ
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سےروایت ہےکہ انہوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سےکوئی شخص اپنی شرمگاہ کوچھوئےتو اسے وضوکرنا چاہیے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو کرنا مستحب ہے میں اسے واجب قرار نہیں دیتا۔ جناب علی بن سعید نسوی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے شرم گاہ کو چھونے سے وضو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اسے مستحب سمجھتا ہوں، اسے واجب قرار نہیں دیتا۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَحْدَاثِ الْمُوجِبَةِ لِلْوُضُوءِ/حدیث: 33]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، سنن النسائي، كتاب الطهارة، باب الوضوء من مس الذكر، رقم الحديث: 163، سنن ابي داود، الطهارة باب الوضوء من مس الذكر: 181، سنن ابن ماجه: 479، موطا مالك: 87، سنن الدارمي: 726، أحمد 406/6، الحميد: 352»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 34
وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: نَرَى الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ اسْتِحْبَابًا لا إِيجَابًا بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يُوجِبُ الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ، اتِّبَاعًا بِخَبَرِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ لا قِيَاسًا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَبِقَوْلِ الشَّافِعِيِّ أَقُولُ، لأَنَّ عُرْوَةَ قَدْ سَمِعَ خَبَرَ بُسْرَةَ مِنْهَا، لا كَمَا تَوَهَّمَ بَعْضُ عُلَمَائِنَا أَنَّ الْخَبَرَ وَاهٍ لِطَعْنِهِ فِي مَرْوَانَ
امام ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ کو فرما تے ہوئے سنا، ہمارے نزدیک سیدنا طلق رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو کرنا مستحب ہے، واجب نہیں۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ قیاس کرنے کی بجائے سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث کی اتباع کرتے ہوئے مس ذکر سے وضو کو واجب قرار دیتے تھے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے فرمان کے مطابق موقف رکھتا ہوں کیونکہ حضرت عروہ نے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث سنی ہے- بعض علماء کے اس توہم کے برعکس جو کہتے ہیں کہ یہ حدیث مروان میں طعن کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَحْدَاثِ الْمُوجِبَةِ لِلْوُضُوءِ/حدیث: 34]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، سنن أبى داؤد، كتاب الطهارة، باب الرخصة فى ذلك، رقم: 183، 182، الترمذي، رقم: 85، وابن ماجه، رقم: 483، أحمد: 22/4، 23»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں