صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. (36) بَابُ ذِكْرِ مَا كَانَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- فَرَّقَ بِهِ بَيْنَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ أُمَّتِهِ فِي النَّوْمِ؛
اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے درمیان نیند میں فرق رکھا ہے
حدیث نمبر: Q48
مِنْ أَنَّ عَيْنَيْهِ إِذَا نَامَتَا لَمْ يَكُنْ قَلْبُهُ يَنَامُ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فِي إِيجَابِ الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ عَلَى أُمَّتِهِ دُونَهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ
کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی ہیں تو دل بیدار رہتا ہے۔ اسی طرح نیند سے وضو واجب ہونے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور اُمّت کے درمیان فرق رکھا ہے۔ اُمّتوں پر نیند سے وضو واجب ہو جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ اللَّوَاتِي لَا تُوجِبُ الْوُضُوءَُ/حدیث: Q48]
حدیث نمبر: 48
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَنَامُ عَيْنَايَ وَلا يَنَامُ قَلْبِي"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ اللَّوَاتِي لَا تُوجِبُ الْوُضُوءَُ/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 12، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 48، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6386، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7535، 9788، والبزار فى (مسنده) برقم: 8373»
حدیث نمبر: 49
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ : كَيْفَ كَانَتْ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاثًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلا يَنَامُ قَلْبِي"
سیدنا ابو سلمہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) کی کیفیت کے متعلق پوچھا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک یا رمضان المبارک کے علاوہ (کسی اور مہینے میں) گیارہ رکعات سے زیادہ ادا نہیں کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں ادا کرتے، ان کی عمدگی اور طوالت کا مت پوچھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں ادا کرتے ان کی خوبی اور لمبائی کے متعلق مت پوچھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعتیں ادا کرتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کرنے سے پہلے سوجاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ، بیشک میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔“ (وہ بیدار رہتا ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ اللَّوَاتِي لَا تُوجِبُ الْوُضُوءَُ/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 730، 1147، 1159، 1969، 1970، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 738، ومالك فى (الموطأ) برقم: 394، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 49، 1102، 1166، 1283، 1626، 2078، 2133، 2213، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 353، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 761، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1340، 1341، والترمذي فى (جامعه) برقم: 439، 737، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1515، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 942، 1196، 1710، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24707»