🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. ‏(‏67‏)‏ بَابُ تَسْمِيَةِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ فِطْرَةٌ
پانی سے استنجا کرنے کو فطرت کا نام دیا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 88
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، نا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، حَدَّثَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَالسِّوَاكُ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ" . قَالَ عَبْدَةُ فِي حَدِيثِهِ: وَالْعَاشِرَةُ لا أَدْرِي مَا هِيَ إِلا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ مُصْعَبٌ: نَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. قَالَ وَكِيعٌ: انْتِقَاصُ الْمَاءِ إِذَا نَضَحَهُ بِالْمَاءِ نَقَصَ. وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ رَافِعٍ الْعَاشِرَةَ، وَلا سُفْيَانُ وَلا شَكَّ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس کام فطرت سے ہیں، مونچھیں کاٹنا، ناک میں پانی ڈالنا، اور (اُسے صاف کرنا)، مسواک کرنا، داڑھی بڑھانا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال صاف کرنا، استنجا کرنا، (یا وضو کے بعد شرم گا کو چھینٹے مارنا) ناخن تراشنا اور اُنگلیوں کے جوڑ دھونا۔ عبدہ اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ دسویں کام کا مجھے علم نہیں کہ وہ کیا ہے، مگر یہ کہ کُلّی کرنا ہو۔ وکیع کی روایت میں ہے کہ مصعب نے کہا کہ میں دسواں کام بھول گیا ہوں، ممکن ہے کلی کرنا ہو۔ وکیع فرماتے ہیں: «‏‏‏‏اِنتقَاصُ الْمَاءَ» ‏‏‏‏ پانی کا کم ہونا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اپنی شرم گاہ کو پانی سے چھینٹے مارے گا تو پیشاب کے قطرے نکلنے بند ہو جائیں گے۔ (امام صاحب فرماتے ہیں) ابن رافع اور سفیان نے دسواں کام ذکر نہیں کیا اور نہ شک کرتے ہوئے دسواں کام بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ‏.‏/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «خرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 261، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 88، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5055، وأبو داود فى (سننه) برقم: 53، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2757، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 293، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 154، 241، والدارقطني فى (سننه) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25700»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں