🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

71. ‏(‏71‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا
گذشتہ مجمل روایت کی مفسرروایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q92
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ‏:‏ ‏"‏ الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ‏"‏ بَعْضَ الْمِيَاهِ لَا كُلَّهَا، وَإِنَّمَا أَرَادَ الْمَاءَ الَّذِي هُوَ قُلَّتَانِ فَأَكْثَرُ لَا مَا دُونَ الْقُلَّتَيْنِ مِنْهُ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان پانی کوکوئی چیز ناپاک نہیں کرتی سے بعض پانی مراد لیتے ہیں تمام پانی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وہ پانی ہے جو «‏‏‏‏قلتين» ‏‏‏‏ یا اس سے زیادہ ہو، «‏‏‏‏قلتين» ‏‏‏‏ دومٹکوں سے کم پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ الْمَاءِ الَّذِي لَا يَنْجُسُ، وَالَّذِي يَنْجُسُ إِذَا خَالَطَتْهُ نَجَاسَةٌ/حدیث: Q92]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 92
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، وَأَبُو الأَزْهَرِ حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ، لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ" . هَذَا حَدِيثُ حَوْثَرَةَ. وَقَالَ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ أَيْضًا:" لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ". وَأَمَّا الْمُخَرِّمِيُّ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصَرًا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ"، وَلَمْ يَذْكُرْ مَسْأَلَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے متعلق پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے (پانی پینے کے لئے) آتے جاتے رہتے ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔ یہ موثرہ کی روایت ہے۔ موسٰی بن عبدالرحمٰن نے اپنی روایت میں «‏‏‏‏حدث» ‏‏‏‏ کی بجائے «‏‏‏‏عن» ‏‏‏‏ بیان کیا ہے۔اور «‏‏‏‏لم يَحْمِلْ الخُبَثَ» ‏‏‏‏ کی بجائے «‏‏‏‏لَم يُنْجِسْهُ شَيٌءُٗ» ‏‏‏‏ اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ (امام صاحب کہتے ہیں) مخرمی نے ہمیں مختصر روایت بیان کی ہے، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو مٹکے ہو تو ناپاک نہیں ہوتا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی اور اس پر آنے جانے والے پرندوں اور چاپائیوں کے متعلق سوال کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ الْمَاءِ الَّذِي لَا يَنْجُسُ، وَالَّذِي يَنْجُسُ إِذَا خَالَطَتْهُ نَجَاسَةٌ/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: ارواء الغليل: 23، صحيح ابي داود: 59، 56، سنن الترمذي: كتاب الطهارة: باب منه أخر، رقم الحديث: 67، سنن ابن ماجه: 517، سنن الدارمي: 732، و سنن نسائي: 52، والبيهقي فى الكبرىٰ: رقم: 1162»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں