🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

208. ‏(‏206‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَا وَقَعَ عَلَيْهِ اسْمُ التُّرَابِ فَالتَّيَمُّمُ بِهِ جَائِزٌ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس چیز پر مٹی کا اطلاق ہوتا ہے پانی کی کمی اور قلت کے وقت اس سے تیمّم کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q264
وَإِنْ كَانَ التُّرَابُ عَلَى بِسَاطٍ أَوْ ثَوْبٍ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى الْأَرْضِ مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ خَبَرَ أَبِي مُعَاوِيَةَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ مُخْتَصَرٌ ‏"‏ جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ طَهُورًا ‏"‏ أَيْ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ إِذَا كَانَ الْمُحْدِثُ غَيْرَ مَرِيضٍ مَرَضًا يَخَافُ- إِنْ مَاسَّ الْمَاءَ- التَّلَفَ أَوِ الْمَرَضَ الْمُخَوِّفَ أَوِ الْأَلَمَ الشَّدِيدَ، لَا أَنَّهُ جَعَلَ الْأَرْضَ طَهُورًا، وَإِنْ كَانَ الْمُحْدِثُ صَحِيحًا وَاجِدًا لِلْمَاءِ، أَوْ مَرِيضًا لَا يَضُرُّ إِمْسَاسَ الْبَدَنِ الْمَاءُ‏.‏
اگرچہ مٹی کسی چٹائی یا کپڑے پر ہو، اور اگرچہ زمین پر نہ ہو اس دلیل کے ساتھ کہ سیدنا ابو معاویہ رضی اللہ عنہ کی جو حدیث ہم نے بیان کی ہے وہ مختصر ہے۔ «‏‏‏‏جعلت لنا الأرض طهورا» ‏‏‏‏ ہمارے لیے زمین کو پاک کرنے والی بنادیا گیا ہے یعنی پانی کی قلّت نایابی کی صورت میں جبکہ محدث ایسا مریض بھی نہ ہو جو پانی کے استعال کی صورت میں ہلاک ہونے، مرض بڑھنے یا شدید درد میں مُبتلا ہونے سے ڈرتا ہے (یعنی تندرست آدمی پانی کی عدم موجودگی میں تیمّم کرسکتا ہے) اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے لیے زمین کو پاک کرنے والی بنا دیا گیا ہے اگر چه محدث تندرست ہو، پانی اس کے پاس موجود ہو یا وہ ایسا مریض بھی نہ ہو جسے جسم پر پانی لگانے سے کوئی خدشہ ہو (تو وہ بھی تیمّم کر سکتا ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جِمَاعُ أَبْوَابِ التَّيَمُّمِ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ فِي السَّفَرِ،/حدیث: Q264]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 264
نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلاثٍ: جُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلائِكَةِ، وَأُوتِيتُ هَؤُلاءِ الآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِنْهُ أَحَدٌ قَبْلِي , وَلا أَحَدٌ بَعْدِي"
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے، ہمارے لئے پوری زمین مسجد بنائی گئی ہے، جب ہمیں پانی نہ ملےتو اُس کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنےوالی بنائی گئی ہے اور ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں اور سورة البقرة کے آخر کی یہ آیات مجھےعرش تلےکے خزانے کے گھر سےعطا کی گئی ہیں۔ اس میں سے مجھ سے پہلے کوئی (نبی) دیا گیا ہےنہ میرے بعد کسی کو دیا جائے گا۔ [صحيح ابن خزيمه/جِمَاعُ أَبْوَابِ التَّيَمُّمِ عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنَ الْمَاءِ فِي السَّفَرِ،/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں