🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

247. ‏(‏14‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ فَرْضَ الصَّلَاةِ كَانَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، كَمَا هِيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِهِ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کرام پر پانچ نمازیں فرض تھیں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت پر فرض ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q325
وَأَنَّ أَوْقَاتِ صَلَوَاتِهِمْ كَانَتْ أَوْقَاتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَأُمَّتِهِ‏.‏
اور اُن کی نمازوں کے اوقات بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکی اُمّت کے نمازوں کے اوقات والے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ‏:‏ الصَّلَاةِ/حدیث: Q325]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل نے بیت اللہ شریف کے پاس مُجھے دو دفعہ امامت کروائی، تو اُنہوں نے مجھے ظہر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب سورج تسمے کے برابر ڈھل گیا۔ اور عصر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اُس کے برابر ہو گیا۔ اور مغرب کی نماز اُس وقت پڑھائی جب روزے دار نے روزہ کھول لیا۔ اور عشاء کی نماز اُس وقت پڑھائی جب سُرخی غائب ہو گئی۔ اور فجر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب روزے دار پر کھانا پینا حرام ہوگیا۔ اور دوسرے دن مجھے ظہر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اُس کے برابر ہوگیا۔ اور عصر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس سے دُگنا ہوگیا، اور نماز مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار نے روزہ افطار کرلیا، اور عشاء کی نماز تہائی رات گزرنے پر پڑھائی اور صبح کی نماز روشنی ہونے کے بعد پڑھائی۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے تو کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام (کی نماز) کا وقت ہے۔ یہ احمد بن عبدہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ وکیع کی روایت میں حکیم بن حکیم بن عباد بن حنیف ہے۔ اما م رحمہ اللہ کے کلام جیسے وہ اس باب کے آخر پر ذکر کر چکے ہیں اُسے اس مقام پر لکھا جائے گا ان شاءاللہ۔ (یعنی امام صاحب کا گزشتہ تبصرہ اس جگہ درج کیا جائے گا۔) [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ‏:‏ الصَّلَاةِ/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 167، 168، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 325، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 698، وأبو داود فى (سننه) برقم: 393، والترمذي فى (جامعه) برقم: 149، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1732، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1014، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3140»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں