🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. بَابُ الإِمَامِ يَأْتِي قَوْمًا فَيُصْلِحُ بَيْنَهُمْ:
باب: امام کسی جماعت کے پاس آئے اور ان میں باہم صلح کرا دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7190
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرٍو، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُمْ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَأَقَامَ، وَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ، فَشَقَّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ، قَالَ: وَصَفَّحَ الْقَوْمُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْرُغَ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَلَيْهِ، الْتَفَتَ، فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنِ امْضِهْ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً يَحْمَدُ اللَّهَ عَلَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ؟، قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لِلْقَوْمِ: إِذَا رَابَكُمْ أَمْرٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوحازم المدینی نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں باہم لڑائی ہو گئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی اور ان کے یہاں صلح کرانے کے لیے تشریف لائے۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا (مدینہ میں) تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی۔ آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ وہ آگے بڑھے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز ہی میں تھے ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی صف کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور اس صف میں آ گئے جو ان سے قریب تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو بتانے کے لیے ہاتھ مارے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو ختم کرنے سے پہلے کسی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہاتھ پر ہاتھ مارنا رکتا ہی نہیں تو آپ متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ نماز پوری کریں اور آپ نے اس طرح ہاتھ سے اپنی جگہ ٹھہرے رہنے کا اشارہ کیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اللہ کی حمد کرنے کے لیے ٹھہرے رہے، پھر آپ الٹے پاؤں پیچھے آ گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو آپ نے نماز پڑھائی۔ نماز پوری کرنے کے بعد آپ نے فرمایا، ابوبکر! جب میں نے ارشاد کر دیا تھا تو آپ کو نماز پوری پڑھانے میں کیا چیز مانع تھی؟ انہوں نے عرض کیا، ابن ابی قحافہ کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (نماز میں) جب کوئی معاملہ پیش آئے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہئیے اور عورتوں کو ہاتھ پر ہاتھ مارنا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7190]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: قبیلہ بنو عمرو میں باہم لڑائی ہو گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر ان کے ہاں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ جب نماز عصر کا وقت ہوا تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان اور اقامت کہی، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں، چنانچہ آپ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے جبکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز ہی میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور اس صف میں تشریف لے گئے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قریب تھی۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا، لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو ختم کرنے سے پہلے کسی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ لوگوں کی تالیاں بند نہیں ہو رہی ہیں تو ادھر متوجہ ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ نماز کو جاری رکھیں اور اس طرح آپ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر ٹھہرے اور نبی کے حکم کی تعمیل میں اللہ کی حمد وثنا کرتے رہے، پھر آپ الٹے پاؤں پیچھے آ گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ نماز مکمل کرنے کے بعد آپ نے فرمایا: ابوبکر! جب میں نے اشارہ کر دیا تھا تو تمہیں نماز پوری پڑھانے میں کیا چیز مانع تھی؟ انہوں نے کہا: ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرائے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جب (نماز میں) کوئی معاملہ پیش آ جائے تو مرد «سُبْحَانَ اللهِ» سبحان اللہ کہیں اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ ہاتھ ماریں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7190]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں