🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. بَابُ إِذَا قَضَى الْحَاكِمُ بِجَوْرٍ أَوْ خِلاَفِ أَهْلِ الْعِلْمِ فَهْوَ رَدٌّ:
باب: جب حاکم کا فیصلہ ظالمانہ ہو یا علماء کے خلاف ہو تو وہ رد کر دیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7189
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدًا. ح، وحَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا، فَقَالُوا: صَبَأْنَا صَبَأْنَا، فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ وَيَأْسِرُ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، فَأَمَرَ كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَسِيرَهُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مَرَّتَيْنِ".
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کہا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے انہیں سالم نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے نعیم بن حماد نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا (جب انہیں اسلام کی دعوت دی) تو وہ «أسلمنا‏.‏» (ہم اسلام لائے) کہہ کر اچھی طرح اظہار اسلام نہ کر سکے بلکہ کہنے لگے کہ «صبأنا صبأنا» (ہم اپنے دین سے پھر گئے، ہم اپنے دین سے پھر گئے) اس پر خالد رضی اللہ عنہ انہیں قتل اور قید کرنے لگے اور ہم میں سے ہر شخص کو اس کے حصہ کا قیدی دیا اور ہمیں حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ اس پر میں نے کہا کہ واللہ! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ پھر ہم نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! میں اس سے برات ظاہر کرتا ہوں جو خالد بن ولید نے کیا، دو مرتبہ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7189]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو خزیمہ کی طرف بھیجا تو وہ اپنے اسلام لانے کا اظہار اچھی طرح نہ کر سکے، انہوں نے ہم اسلام لائے کے بجائے ہم اپنے دین سے پھر گئے کہنا شروع کر دیا، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرنا اور قیدی بنانا شروع کر دیا، اور انہوں نے ہم میں سے ہر ایک کو اس کے حصے کا قیدی دیا اور حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنا قیدی قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں ہی میں سے کوئی اپنا قیدی قتل کرے گا، پھر (واپسی پر ہم) نے اس واقعے کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ» اے اللہ! جو کچھ خالد بن ولید نے کیا ہے میں اس سے اظہارِ براءت کرتا ہوں، یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7189]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں