🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

273. ‏(‏40‏)‏ بَابُ تَثْنِيَةِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ فِي الْإِقَامَةِ
اقامت میں ”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ“ دو مرتبہ کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q375
ضِدَّ قَوْلِ بَعْضِ مَنْ لَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ وَلَا يُمَيِّزُ بَيْنَ مَا يَكُونُ لَفْظُهُ عَامًّا مُرَادُهُ خَاصٌّ، وَبَيْنَ مَا لَفْظُهُ عَامٌّ مُرَادُهُ عَامٌّ، فَتَوَهَّمَ بِجَهْلِهِ أَنَّ قَوْلَهُ: وَيُوتِرُ الْإِقَامَةَ كُلَّ الْإِقَامَةِ لَا بَعْضَهَا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ الْفَضْلِ
اس شخص کے قول کےبرعکس جوعلمی بصیرت سے بے بہرہ ہے اور ایسی روایت کے مابین تمیز سے محروم ہے جس کے الفاظ عام اور اس کی مراد خاص ہو اور جس کے لفظ عام ہوں اور اس کی مراد بھی عام ہو، لہٰذا وہ اپنی جہالت کی وجہ سے یہ سمجھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اور اقامت اکہری کہنے سے ساری اقامت اکہری مراد ہے اس کے بعض کلمات نہیں، بلکہ شروع سے لیکر آخر تک اکہری ہے۔ مذکور شخص سے مراد الحسن بن الفضل ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: Q375]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 375
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ بِلالٌ يُثَنِّي الأَذَانَ وَيُوتِرُ الإِقَامَةَ، إِلا قَوْلَهُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَخَبَرُ ابْنِ الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ هَذَا الْبَابِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دوہری اور اقامت اکہری کہتے تھے، سوائے « قَد قَامَتِ الصَّلَاةُ» ‏‏‏‏ کے (یہ دوبار کہتے تھے) امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مثنی کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت اسی باب کے متعلق ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 603، 605، 606، 607، 3457، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 378، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 366، 367، 368، 369، 375، 376، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 722، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 626، وأبو داود فى (سننه) برقم: 508، والترمذي فى (جامعه) برقم: 193، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 729، 730، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1864، والدارقطني فى (سننه) برقم: 921، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1218»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 376
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نا سِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أُمِرَ بِلالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ، إِلا الإِقَامَةَ يَعْنِي قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کواذان کے کلمات دوہرے اور تکبیر کے کلمات اکہرے کہنے کا حُکم دیاگیا تھا سوائے اقامت کے یعنی «‏‏‏‏قَد قَامَتِ الصَّلَاةُ» ‏‏‏‏ کے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: 376]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 603، 605، 606، 607، 3457، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 378، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 366، 367، 368، 369، 375، 376، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 722، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 626، وأبو داود فى (سننه) برقم: 508، والترمذي فى (جامعه) برقم: 193، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 729، 730، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1864، والدارقطني فى (سننه) برقم: 921، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1218»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں