صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
375. (142) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْإِمَامَ إِذَا جَهِلَ فَلَمْ يَقُلْ آمِينَ أَوْ نَسِيَهُ كَانَ عَلَى الْمَأْمُومِ-
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب امام لاعلمی یا بھول جانے کی وجہ سے آمین نہ کہے تو مقتدی کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ سورہ فاتحہ کی قرأت کے اختتام پر امام کو (ولاالضالین) کہتے ہوئے سنے تو آمین کہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدی کو آمین کہنے کا حکم دیا ہے جب اس کا امام (ولاالضالین) پڑھے جیسا کہ آپ نے مقتدی کو امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا حکم دیا ہے
حدیث نمبر: Q575
إِذَا سَمِعَهُ يَقُولُ وَلَا الضَّالِّينَ عِنْدَ خَتْمِهِ قِرَاءَةَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ- أَنْ يَقُولَ: آمِينَ. إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ الْمَأْمُومَ أَنْ يَقُولَ: آمِينَ، إِذَا قَالَ إِمَامُهُ: وَلَا الضَّالِّينَ، كَمَا أَمَرَهُ أَنْ يَقُولَ آمِينَ إِذَا قَالَهُ إِمَامُهُ.
مقتدی کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ سورہ فاتحہ کی قراءت کے اختتام پر امام کو (ولا الضالین) کہتے ہوئے سنے تو آمین کہے-کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدی کو آمین کہنے کا حکم دیا ہے جب اس کا امام (ولاالضالین) پڑھے جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدی کو امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا حکم دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: Q575]
حدیث نمبر: 575
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الإِمَامُ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ، وَالإِمَامُ يَقُولُ: آمِينَ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" . هَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» پڑھے تو، تم آمین کہو، بلاشبہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے، تو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ یہ صنعانی کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: 575]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 722، 734، 780، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 409، وابن الجارود فى "المنتقى"، 213، 352، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 569، 570، 575، 1575، 1576، 1582، 1583، 1597، 1613، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1804، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 920، وأبو داود فى (سننه) برقم: 603، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3، 846، 851، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2314، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1243، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7265»