صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
384. (151) بَابُ ذِكْرِ نَسْخِ التَّطْبِيقِ فِي الرُّكُوعِ،
رکوع میں تطبیق (دونوں ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے درمیان رکھنا) کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q595
وَالْبَيَانِ عَلَى أَنَّ وَضْعَ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ نَاسِخٌ لِلتَّطْبِيقِ، إِذِ التَّطْبِيقُ كَانَ مُقَدَّمًا، وَوَضْعُ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ مُؤَخَّرًا بَعْدَهُ، فَالْمُقَدَّمُ مَنْسُوخٌ، وَالْمُؤَخَّرُ نَاسِخٌ.
اوراس بات کا بیان کہ دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھنا تطبیق کے لیے ناسخ ہے- کیونکہ تطبیق کا عمل پہلے تھا اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا عمل اس کے بعد ہے لہٰذا مقدم عمل منسوخ ہے اور موخر عمل ناسخ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: Q595]
حدیث نمبر: 595
نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الأَزْدِيُّ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ ابْنُ إِدْرِيسَ بْنِ يَزِيدَ الأَزْدِيُّ، نِسْبَةً إِلَى جَدِّهِ قَالَ، نا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ، قَالَ: " فَكَبَّرَ، وَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ فَرَكَعَ" ، فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا ، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا يَعْنِي الإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سکھائی تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہا اور جب رُکوع کرنے کا ارادہ فرمایا تو اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھے، پھر رُکوع کیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو اُنہوں نے فرمایا کہ میرے بھائی نے سچ کہا ہے، ہم اسی طرح کیا کرتے تھے پھر ہمیں اس کا حُکم دے دیا گیا یعنی (دونوں ہاتھوں کے ساتھ) گھٹنوں کو پکڑنے کا۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 219، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 595، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 820، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1030، وأبو داود فى (سننه) برقم: 747، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2572، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1281، 1282، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4054، والبزار فى (مسنده) برقم: 1608، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 2555»