🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. بَابُ إِخْرَاجِ الْخُصُومِ وَأَهْلِ الرِّيَبِ مِنَ الْبُيُوتِ بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ:
باب: جھگڑا اور فسق و فجور کرنے والوں کو معلوم ہونے کے بعد گھروں سے نکالنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7224
وَقَدْ أَخْرَجَ عُمَرُ أُخْتَ أَبِي بَكْرٍ حِينَ نَاحَتْ.
‏‏‏‏ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بہن (ام فروہ) کو اس وقت (گھر سے) نکال دیا تھا جب وہ (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر) نوحہ کر رہی تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: Q7224]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7224
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ يُحْتَطَبُ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ: قَالَ يُونُسُ: قَالَ مُحَمَّد بْنُ سُلَيْمَانُ: قَالَ أَبو عَبْدَ اللهِ: مَرْمَاهُ مَا بَيْنَ خَلف الشاة مِنَ اللحم مِثْلَ منسأة وميضأة الميم مخفوضه.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ارادہ ہوا کہ میں لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان دینے کا، پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں اس کے بجائے ان لوگوں کے پاس جاؤں (جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے) اور انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم سے کسی کو اگر یہ امید ہو کہ وہاں موٹی ہڈی یا دو «مرماة حسنتين» بکری کے کھر کے درمیان کا گوشت ملے گا تو وہ ضرور (نماز) عشاء میں شریک ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7224]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ارادہ ہوا کہ میں ایندھن جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان دینے کا کہوں، پھر کسی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جاؤں (جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے) اور انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کسی کو اگر امید ہو کہ وہاں مسجد میں سے موٹی ہڈی یا اچھے پائے ملیں گے تو وہ ضرور عشاء میں بھی حاضر ہو۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: بکری کے کھر کے درمیان گوشت کو «مِرْمَاةٌ» کہتے ہیں۔ یہ «مِنْسَاةٌ» اور «مِضَاةٌ» کی طرح میم کے نیچے زیر کے ساتھ ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7224]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں