صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کرتے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس لیے بیدار کردیتے تھے تاکہ وہ بھی وتر ادا کرلیں، (یہ مقصد نہیں تھا کہ) اُن کے سامنے لیٹے ہونے کی صورت میں وتر ادا کرنا مکروہ تھا۔
حدیث نمبر: 824
نَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى، ح وثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا ابْنُ بِشْرٍ، قَالا: ثَنَا هِشَامٌ، ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ هِشَامٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَابْنِ بِشْرٍ: " وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ" . وَفِي حَدِيثِ بُنْدَارٍ:" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَفِرَاشُنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَقَامَنِي فَأَوَتَرَ"
جناب وکیع اور ابن بشر کی روایت میں ہے کہ (سیدہ عائشہ فرماتی ہیں) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے لگتے تو مجھے بیدار کر دیتے تومیں بھی وتر پڑھ لیتی۔، بندار کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے جبکہ ہمارا بستر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان میں ہوتا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کرنے لگتے تو مجھے اُٹھا دیتے تو میں بھی وتر ادا کر لیتی۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي/حدیث: 824]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 382، 383، 384، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 512، ومالك فى (الموطأ) برقم: 386، وابن الجارود فى "المنتقى"، 188، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 822، 823، 824، 825، 826، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2341، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 166، وأبو داود فى (سننه) برقم: 710، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 956، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24722»