صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
561. (327) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي بَصْقِ الْمُصَلِّي خَلْفَهُ، و
نمازی کو اپنے پیچھے تھوکنے کی رخصت کا بیان،
حدیث نمبر: Q876
َفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى إِبَاحَةِ لَيِّ الْمُصَلِّي عُنُقَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَبْصُقَ فِي صَلَاتِهِ، إِذِ الْبَزْقُ خَلْفَهُ غَيْرُ مُمْكِنٍ إِلَّا بِلَيِّ الْعُنُقِ
اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی کے لئے گردن کو پیچھے کی طرف موڑنا جائز ہے جبکہ وہ تھوکنے کا ارادہ کرے کیونکہ پیچھے کی طرف تھوکنا گردن موڑے بغیر ممکن نہیں ہے - [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ الْمُبَاحَةِ فِي الصَّلَاةِ/حدیث: Q876]
حدیث نمبر: 876
نَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كُنْتَ فِي الصَّلاةِ فَلا تَبْزُقَنَّ عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنْ خَلْفَكَ، أَوْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِكَ الْيُسْرَى" . هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَقَالَ أَيْضًا، قَالَ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ:" وَابْصُقْ خَلْفَكَ أَوْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا وَإِلا فَهَكَذَا، تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى"
سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز میں ہو تو اپنی دائیں طرف مت تھوکو لیکن اپنے پیچھے یا بائیں جانب یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لو۔“ یہ بندار کی حدیث ہے۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ مجھے منصور نے بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے پیچھے تھوک لو، یا اپنی بائیں جانب تھوک لو اگر وہ خالی ہو، (کوئی دوسرا نمازی نہ ہو) وگرنہ اس طرح اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ الْمُبَاحَةِ فِي الصَّلَاةِ/حدیث: 876]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 876، 877، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 947، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 725، وأبو داود فى (سننه) برقم: 478، والترمذي فى (جامعه) برقم: 571، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1021، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3655، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27864»