🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

565. (332) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي مَنْعِ الْمُصَلِّي النَّاسَ مِنَ الْمُقَاتَلَةِ، وَدَفْعِ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ إِذَا اقْتَتَلُوا
نمازی کے لئے لوگوں کو لڑائی سے منع کرنے اور جب وہ لڑنے لگیں تو اُنہیں ایک دوسرے سے ہٹانے اور چھڑانے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 882
نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اقْتَتَلَتَا، فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَ إِحْدَاهُمَا مِنَ الأُخْرَى، ثُمَّ مَا بَالَى ذَلِكَ"
جناب ابوالصہباء کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو عبدالمطلب کی دو بچّیاں لڑتی جھگڑتی ہوئی آئیں چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کو پکڑ لیا اور ایک کو دوسری سے کھینچ کر چھڑا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی (یعنی اپنی نماز بھی جاری رکھی)۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں گزشتہ صفحات پر املا کروا چکا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اُسے اپنے آگے سے گزرنے نہیں دینا چاہیے اور اگر وہ (رکنے سے) انکار کر دے تو اسے اُس کے ساتھ لڑائی کرنی چاہیے، کیونکہ وہ شیطان ہے ـ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ الْمُبَاحَةِ فِي الصَّلَاةِ/حدیث: 882]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 76، 493، 861، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 504، ومالك فى (الموطأ) برقم: 531، وابن الجارود فى "المنتقى"، 187، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 833، 834، 835، 837، 838، 882، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2151، وأبو داود فى (سننه) برقم: 715، 716، والترمذي فى (جامعه) برقم: 337، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 947، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1916»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں