🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (بَابٌ:)
باب: (وحی کی علامات، وحی کا محفوظ کرنا)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:" لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [سورة القيامة آية 16] ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَنَا أُحَرِّكُهُمَا لَكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا، وَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا، فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [16] إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ [17] [سورة القيامة آية 16-17] ، قَالَ: جَمْعُهُ لَهُ فِي صَدْرِكَ وَتَقْرَأَهُ، فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ [سورة القيامة آية 18] ، قَالَ: فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ [سورة القيامة آية 19] ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَرَأَهُ".
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے حدیث بیان کی، ان کو ابوعوانہ نے خبر دی، ان سے موسیٰ ابن ابی عائشہ نے بیان کی، ان سے سعید بن جبیر نے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کلام الٰہی «لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ» الخ [سورة القيامة آية ۱۶] کی تفسیر کے سلسلہ میں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اس کی (علامتوں) میں سے ایک یہ تھی کہ یاد کرنے کے لیے آپ اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح آپ ہلاتے تھے۔ سعید کہتے ہیں میں بھی اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما کو میں نے ہلاتے دیکھا۔ پھر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا) پھر یہ آیت اتری «لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [۱۶] إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ [۱۷] » [سورة القيامة آية ۱۶ - ۱۷] کہ اے محمد! قرآن کو جلد جلد یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ۔ اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارا ذمہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یعنی قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جما دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں (اس کا مطلب یہ ہے) کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہو۔ اس کے بعد مطلب سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر یقیناً یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھو (یعنی اس کو محفوظ کر سکو) چنانچہ اس کے بعد جب آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام (وحی لے کر) آتے تو آپ (توجہ سے) سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (وحی) کو اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے اسے پڑھا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ/حدیث: 5]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانِ الہٰی ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ [سورة القيامة: 16] (اے پیغمبر!) آپ وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزولِ وحی کے وقت بہت مشقت برداشت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اکثر) اپنے لب مبارک کو حرکت دیا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں آپ کے سامنے اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلاتے تھے۔ (آپ کے شاگرد) سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ہلاتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ﴾ [سورة القيامة: 16-17] (اے نبی!) اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، اسے جمع کرنا اور پڑھا دینا ہماری ذمے داری ہے۔ یعنی آپ کے سینے میں محفوظ کر دینا اور پڑھانا ہمارا کام ہے۔ پھر ارشادِ الہٰی ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ [سورة القيامة: 18] چنانچہ جب ہم پڑھ چکیں تو ہمارے پڑھنے کی پیروی کرو۔ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: خاموشی سے کان لگا کر سنتے رہو۔ پھر فرمانِ الہٰی ﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴾ [سورة القيامة: 19] اس کا بیان کرنا بھی ہمارا کام ہے۔ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہماری ذمے داری ہے۔ ان آیات کے نزول کے بعد جب جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قرآن سناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کان لگا کر سنتے رہتے، جب وہ چلے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وعدہ الٰہی کے مطابق) اس طرح پڑھتے جس طرح جبریل علیہ السلام نے پڑھا ہوتا۔ [صحيح البخاري/كِتَابُ بَدْءِ الْوَحْيِ/حدیث: 5]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں