صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ آل عمران میں) فرمان ”اے پیغمبر! تجھ کو اس کام میں کوئی دخل نہیں“ آخر آیت تک۔
حدیث نمبر: 7346
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فِي الْأَخِيرَةِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں یہ دعا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پڑھتے تھے «اللهم ربنا ولك الحمد» ”اے اللہ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔“ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی کہ آپ کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں ہے اللہ! ان کی توبہ قبول کر لے یا انہیں عذاب دے کہ بلاشبہ وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7346]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔“ یعنی آخری رکعت میں، پھر کہتے: ”اے اللہ! فلاں فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] ”آپ کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں، اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے۔ بلاشبہ وہ ظالم ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7346]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة