🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

823. (590) بَابُ الْأَمْرِ بِالدُّعَاءِ عَلَى نَاشِدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يُؤَدِّيَهَا اللَّهُ عَلَيْهِ
مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرنے والے کو یہ بد دعا دینے کے حُکم کا بیان کہ اللہ تعالی تمھہیں وہ واپس نہ دلائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1302
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّهُ شَهِدَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَمِعَ رَجُلا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ لَهُ: لا أَدَّاهَا اللَّهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا" قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا هُوَ سَالِمٌ الدَّوْسِيُّ يُقَالُ لَهُ: سَبَلانُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص کسی آدمی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنے تو وہ اُسے یہ (بددعا) دیدے «‏‏‏‏لاَ أَدَّاھَا اللهُ عَلَيْكَ» ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ چیز واپس نہ دلائے، کیونکہ مساجد اس کام کے لئے نہیں بنائی گئیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ فَضَائِلِ الْمَسَاجِدِ وَبِنَائِهَا وَتَعْظِيمِهَا/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1303
نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ مَسْعُودٍ " رَجُلا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَغَضِبَ وَسَبَّهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا كُنْتَ فَحَّاشًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ"
جناب ابوعثمان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنا، تو آپ سخت غضب ناک ہوئے اور اُسے برا بھلا کہا، تو ایک شخص نے اُن سے عر ض کی کہ اے ابن مسعود، آپ تو فحش گوئی نہیں کرتے تھے؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ ہمیں (ایسے موقع پر) ایسے ہی کرنے کا حُکم دیا جاتا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ فَضَائِلِ الْمَسَاجِدِ وَبِنَائِهَا وَتَعْظِيمِهَا/حدیث: 1303]
تخریج الحدیث: اسناده جيد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں